اکبری منڈی سنگین مسائل میں مبتلا، کاروبار سست روی کا شکار، تاجر پریشان

لاہور ( رپورٹ:نعےم جاوےد/ عکاسی: میاں شاہنواز)ملک کی سب سے بڑی اجناس منڈیوں میں شمار ہونے والی اکبری منڈی ان دنوں شدید کاروباری دباو اور متعدد مسائل کی لپیٹ میں ہے۔ روزانہ ہزاروں من اجناس کی خرید و فروخت کا مرکز ہونے کے باوجود یہاں کے تاجر بڑھتے ہوئے اخراجات، حکومتی پالیسیوں، ٹیکسوں کے بوجھ اور بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مشرق سروے کے دوران مختلف دکانداروں، آڑھتیوں اور تھوک فروشوںملک مبےن ، ماجد حسےن ،ملک سجاد، ولی خان،عارف بھٹی، شےخ منظور،اورآصف محمود نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کاروبار میں نمایاں سست روی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث قوت خرید میں کمی ہوئی ہے جس سے مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ پہلے جہاں روزانہ سینکڑوں بوریاں دالوں اور چاول کی فروخت ہوتی تھی، اب وہ تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ تاجروں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ پٹرولےم مصنوعات کی قےمتوںمےں بے پناہ اضافہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ ایف بی آر کی سخت پالیسیوں اور بار بار نوٹسوں کے باعث کاروباری طبقہ ذہنی دباو¿ کا شکار ہے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھی کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ کولڈ سٹوریج اور گوداموں کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں جس کا براہ راست اثر اشیاءکی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ تاجروں نے شکایت کی کہ لوڈشیڈنگ کے باعث مال خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، خاص طور پر دالوں اور خشک اجناس کے ذخیرہ کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اکبری منڈی میں ٹریفک کا نظام بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ تنگ گلیاں، غیر منظم پارکنگ اور لوڈنگ ان لوڈنگ کے اوقات کار میں بے ترتیبی کے باعث شدید رش رہتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹرکوں اور رکشوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ کے باعث سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔صفائی اور سیوریج کا ناقص نظام بھی تاجروں کی شکایات میں سرفہرست ہے۔ کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیر اور بند نالیاں نہ صرف ماحول کو آلودہ کر رہی ہیں بلکہ خریداروں کی آمد کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ ایک دکاندار نے کہا کہ اگر بنیادی سہولیات بہتر ہوں تو خریدار خود بخود بڑھ جائیں گے۔ سکیورٹی کے حوالے سے بھی تاجروں نے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی مقدار میں نقد لین دین ہونے کے باوجود مو¿ثر سیکیورٹی انتظامات موجود نہیں، جس سے چوری اور ڈکیتی کے واقعات کا خطرہ رہتا ہے۔تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اکبری منڈی کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔ ان کے مطابق ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے، بجلی و گیس کے نرخ کم کیے جائیں، اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔