واشنگٹن، اسلام آباد، تہران، تل ابیب (بیورو رپورٹ+ مشرق نیوز) اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ، اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں امریکی کارگو طیارے گولا بارود اور فوجی سازوسامان لےکر اسرائیل پہنچ گئے،اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی طیارے مختلف فوجی اڈوں پر اترے جہاں اسلحہ، میزائلوں اور دیگر جنگی سامان کی ترسیل کی گئی، پیش رفت ایران کے خلاف ممکنہ نئی جنگی تیاریوں کا حصہ ہو سکتی ہے، حالیہ ہفتوں میں خطے کی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ، امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو مسلسل فوجی سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا 7 اکتوبر 2023 کو ہونےوالے حملے کے ذمہ داروں کے خاتمے کا مشن مکمل ہونے کے قریب ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کے پاس وقت بہت کم، بہت تیزی سے اقدامات کرنا ہوں گے، ایران نے بروقت اقدامات نہ کیے تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا، جنگ کے سائے پھر منڈلانے لگے،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، توقع ہے تہران اپنی طرف سے ایک نیا مسودہ بھیجے گا، ہم بھی معاہدہ چاہتے ہیں لیکن معاملات ابھی اس حد تک نہیں پہنچے کہ ڈیل سائن ہوجائے، ایران کو آگے بڑھنا ہوگا ورنہ سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا،امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق حملوں کا فیصلہ ہوا تو پینٹاگون نے کئی منصوبے تیار کررکھے ہیں، صدرٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم سے بھی اہم ملاقات میں ایران جنگ سے متعلق لائحہ عمل پر غور کیا گیا،ادھر امریکہ نے ایران کےساتھ امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کےلئے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی پیشکش کر دی،ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ کی تجویز دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوران سامنے آئی ہے،رپورٹ میں مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پابندیوں میں یہ نرمی فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی بلکہ حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا، دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی ملک کےساتھ کوئی دشمنی نہیں،پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا پاکستانی ثالثی کے ذریعے بات چیت کا عمل جاری ہے، حالیہ ایرانی تجویز پر ایران اور امریکا دونوں اپنے کمنٹس دے چکے ہیں، امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی مطالبات میں ایرانی منجمد فنڈز جاری کرنا اور پابندیاں اٹھانا شامل ہیں، دشمن کو جواب دینا بخوبی جانتے ہیں، امریکہ جان چکا ہے وہ دھمکیوں اور اقتصادی دباو¿ سے ایران کو اپنے حقوق کے حصول سے نہیں روک سکتا، ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات کی، دونوں ٹیموں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے طریقہ کار پر بات چیت کی، آبنائے ہرمز میکنزم کےلئے ایران عمان سمیت تمام متعلقہ فریقین کےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،علاوہ ازیں امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تیسرے روز بھی ایران میں موجود ہیں،ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ محسن نقوی نے تہران میں اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کیں، مزید اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
ایران پر نئے حملے کی تیاری، ڈرون و اسلحہ سے لیس امریکی طیارے اسرائیل پہنچ گئے


















