اسلام آباد (مشرق نیوز) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی آئندہ ماہ پاکستان آمد کا امکان ہے جس میں ایف بی آر کی کمزور کارکردگی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئیگی۔ آئندہ ماہ کے وسط تک آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے دورے پر آنے کا امکان ہے، جہاں وہ آئندہ بجٹ کی تیاری اور ملک کے اہم معاشی اہداف پر تفصیلی مذاکرات کریگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کیلئے سب سے بڑا چیلنج فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کمزور کارکردگی ہوگی کیونکہ ٹیکس اہداف بار بار پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس ادارے سے متعلق تشویش برقرار ہے۔ آئی ایم ایف وفد ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کیلئے دباو برقرار رکھے گا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکس نظام اور انوائسنگ کے لازمی نفاذ پر بھی زور دیا جائیگا تاکہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے۔
علاوہ ازیں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضہ کم کرنے کی حکمت عملی اور بجلی و گیس کے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پر مشاورت بھی متوقع ہے۔ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ نجکاری پروگرام اور سرکاری اداروں کی اصلاحات کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ اسکے علاوہ گورننس، شفافیت اور کرپشن کے خلاف اقدامات پر بھی توجہ دی جائیگی۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ ریویو میں کارکردگی کی بنیاد پر آئی ایم ایف کی جانب سے نئی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا جائیگا جبکہ اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں مزید شرائط عائد ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
آئی ایم ایف FBR کی کارکردگی پر نئی قسط کے اجرا کا فیصلہ کریگا: ذرائع



















