گیس کمی، سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند ، بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) گیس کی کمی، ملک بھر میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند ، بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا،ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی ، مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ، ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائےگی، سی این جی سیکٹر کےلئے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے،پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائےگی، فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کےلئے مختص کی جا سکتی ہے،ذرائع کے مطابق کوئلے سے پیدا ہونےوالی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی،نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں، کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کےلئے کافی ہے جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے، مزید بر آں اوگرا نے ملک میں ایل پی جی کی اضافی قیمت کی وصولی کا نوٹس لیتے ہوئے تمام کمپنیوں کو سرکاری ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی پر ایکشن کا عندیہ دیدیا،ترجمان اوگرا کے مطابق ایل پی جی سیکٹر کی مانیٹرنگ سخت کرتے ہوئے ملک بھر میں فیلڈ انسپکشنز شروع کر دی ہیں، مارچ 2026 کی مقررہ قیمتوں پر فروخت یقینی بنائی جائے،ایل پی جی مارکیٹ میں اوورچارجنگ برداشت نہیں کی جائےگی، مارچ کےلئے ایل پی جی کی قیمت فی کلو 225 روپے مقرر ہے، مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 400 سے 450 روپے وصول کی جارہی ہے جبکہ روپے 2665 والال گھریلو سلنڈر 5 ہزار روپے تک فروخت ہورہا ہے۔