انسان ، جانوروں اور ماحولیاتی صحت باہم جڑی ہیں: خواجہ سلمان رفیق

لاہور (اپنے رپورٹر سے) صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں منعقدہ ”ون ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ ایونٹ“ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی، رکن پنجاب اسمبلی صائمہ زاہد، ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عبدالحمید ملک، ایڈوائزر ائی پی ایچ پروفیسر ملازم حسین بخاری، پروفیسر شمسہ ہمایوں، ڈاکٹر سعید اختر، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر مہوش بھٹی، ڈاکٹر زبیر حمید، ڈاکٹر طارق میاں، فیکلٹی ممبران، طلبائ، ڈاکٹرز وخواتین و حضرات نے شرکت کی ۔تقریب کا باقاعدہ آغاز قومی ترانہ سے کیا گیا۔مختلف طبی ماہرین نے ایونٹ کے اغراض و مقاصد کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں منعقدہ انتہائی اہم ایونٹ پر انتظامیہ کو شاباش دیتے ہیں۔آئی پی ایچ 127 سالوں سے پنجاب کے عوام کی صحت کو یقینی بنانے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔مجھے اس اہم تقریب ”ون ہیلتھ“ میں شرکت کرنے پر خوشی ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کی قیادت میں ڈینگی کی روک تھام کیلئے بہت کام کیا۔سیلاب 2025 میں محکمہ صحت، پی ڈی ایم اے، 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں نے بے مثال خدمات سر انجام دی ہیں۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں شعبہ صحت کی بہتری کیلئے بنیادی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔آج ہم یہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ انسان کی صحت، جانوروں کی صحت اور ماحولیاتی صحت باہم جڑی ہوئی ہیں۔حالیہ برسوں میں پنجاب میں آنے والے سیلاب، ہیٹ ویوز اور بیماریوں کے بدلتے رجحانات ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ یہ سب ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر واضح انتباہی نشانیاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اس ضمن میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ معیاری صحت کی تعلیم کے مواقع کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ آئی پی ایچ کے سرٹیفکیٹ کورسز صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو اپنی مہارتوں اور صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود کی موثر نگرانی میں پنجاب کے شعبہ صحت میں نمایاں بہتریاں کی جارہی ہیں جہاں نئے ادارے قائم کئے جا رہے ہیں اور انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (آئی پی ایچ) کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔نئے بچوں کے ہسپتال، کارڈیک انسٹیٹیوٹس، ایک کینسر ہسپتال، برن یونٹس اور میڈیکل کالجز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹرز، نرسز، کنسلٹنٹس، پیرا میڈیکس اور دیگر حفظان صحت کے ماہرین کے لئے ہزاروں نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ بھی نئے ڈپلومہ اور ڈگری پروگرامز متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔انہوں مزید کہا کہ یہ پروگرام پنجاب اور پاکستان کے لئے زیادہ ماہر پیشہ ور افراد تیار کرنے میں مددگار ہوں گے۔آئی پی ایچ اپنے فارغ التحصیل طلباءکے لئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کورسز پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ ان کے علم اور مہارت میں اضافہ ہو۔پوسٹ گریجوایٹ شعبے میں انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ نے پی ایچ ڈی پروگرامز بھی ڈیزائن کئے ہیں، جس میں یونیورسٹی آف لیسٹر، برطانیہ اور ملائیشیا کی ایک پارٹنر یونیورسٹی کے ساتھ تعاون شامل ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں سے یہ شراکتیں، تربیت، تحقیق اور پنجاب کے عوام کیلئے صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں، یہ حقیقت میں ”ون ہیلتھ“ کی اصل روح ہے۔ادارے نے جونس ہوپکنز یونیورسٹی جیسے قومی اور عالمی اداروں کے ساتھ یادی اشتراکات پر دستخط کیے ہیں۔ یہ شراکتیں صلاحیتوں کی تعمیر، قیادت کی ترقی، تحقیق، اور پیشہ ورانہ تربیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرامز ہمارے محققین کو اعلیٰ معیار کی ڈاکٹریٹ کی سطح کی تعلیم اور بین الاقوامی تحقیقی تجربات فراہم کریں گے۔آئیے ہم اپنے ڈیٹا کو شیئر کریں، اپنی تحقیق کو شیئر کریں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے لوگوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کے لئے اپنی ذمہ داری شیئر کریں۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کیلئے مسلسل تعاون جاری رہیگا۔میں ”ون ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ سینٹر“ کو ترقی اور کامیابی کی جانب دیکھنے کا منتظر ہوں۔ہمیں متحد ہو کر ایک صحت مند، مضبوط اور موسمیاتی سائنس سے ہم آہنگ پنجاب تعمیر کرنے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہئے انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کارڈیک سرجری پروگرام میں ابھی تک 16000 سے زائد بچوں کی کروڑوں روپوں کی مفت سرجریز کر چکے ہیں جن میں2500 سے زائد سرجریز دیگر صوبوں کے بچوں کی شامل ہیں۔ڈائیلسز کے خصوصی پروگرام کے تحت ابھی تک 24 لاکھ ڈائیلسز کروا چکے ہیں۔ہم اپنے اداروں کو پارکنگ پلیسز نہیں بننے دیں گے۔ہسپتالوں میں مریضوں کا دباو کم کرنے کیلئے ہمیں پری وینٹو اقدامات پر کام کرنا ہوگا۔پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی نے کہا کہ حکومت پنجاب شعبہ صحت میں بہتری کیلئے کوشاں ہے۔ہمیں ون ہیلتھ کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ون ہیلتھ کو یقینی بنانا صرف ہیلتھ پروفیشنلز کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ عوام کو خود اس نظریے کو کامیاب بنانا ہے۔رکن پنجاب اسمبلی صائمہ زاہد نے کہا کہ ون ہیلتھ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل نے کہا کہ حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق معاشرے سے خطرناک بیماریوں کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ شعبہ صحت کی بہتری کیلئے کوشاں ہے۔