خواتین، بچوں کے ساتھ زیادتی سمیت دیگر جرائم سنگین سماجی و قانونی چیلنج میں تبدیل

لاہور (مرزا ندیم بیگ) پاکستان میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بدفعلی، زیادتی کے بعد قتل اور جنسی تشدد کے واقعات ایک سنگین سماجی و قانونی چیلنج بن چکے ہیں۔ رواں سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران مختلف شہروں خصوصاً لاہور، قصور، فیصل آباد، شیخوپورہ، ملتان اور راولپنڈی میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے جنہوں نے عوام میں شدید خوف و غم و غصہ پیدا کیا۔ پولیس ریکارڈ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تفتیشی ذرائع کے مطابق زیادتی، اجتماعی زیادتی اور زیادتی کے بعد قتل کے درجنوں مقدمات مختلف تھانوں میں درج کئے گئے جبکہ حساس نوعیت کے کیسوں میں خصوصی انویسٹی گیشن ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں، موبائل ڈیٹا، فرانزک سائنس اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کی مدد سے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے مطابق رواں برس کئی اہم کیسز میں ملزمان کو چند گھنٹوں یا دنوں میں ٹریس کیا گیا جبکہ مختلف اضلاع میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز بھی کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق سنگین جرائم کی روک تھام کیلئے قائم کیا گیا نیا ادارہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) بھی اغوا، قتل اور جنسی جرائم کے مقدمات کی تحقیقات میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔تحقیقاتی افسران کے مطابق زیادتی کے بعد قتل کے مقدمات میں سب سے بڑی مشکل شواہد کے ضائع ہونے، متاثرہ خاندانوں کے خوف، سماجی دباو اور بعض اوقات مصالحتی کوششوں کے باعث پیش آتی ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ اب ڈیجیٹل شواہد، جیو فینسنگ اور بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال سے کیسز کے سراغ میں بہتری آئی ہے۔ بعض کیسز میں ملزمان کے قریبی رشتہ دار یا جاننے والے ہی ملوث نکلے جس سے معاشرتی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا۔انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ صرف مقدمات درج کرنا کافی نہیں بلکہ فوری انصاف، گواہوں کا تحفظ اور متاثرہ خاندانوں کی نفسیاتی بحالی بھی ضروری ہے۔ خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق کئی متاثرہ خاندان معاشرتی بدنامی کے خوف سے رپورٹ درج ہی نہیں کرواتے جس کے باعث اصل تعداد سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔عوامی حلقوں میں اس وقت شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں اور خواتین کے تحفظ کیلئے محلہ سطح پر نگرانی، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم اور سیف سٹی نظام کو مزید مو¿ثر بنانے کی ضرورت ہے۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری ٹرائل اور سخت سزاوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔پولیس حکام کے مطابق سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کیخلاف ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور تمام اضلاع میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں سے متعلق مقدمات کی تفتیش کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جبکہ فرانزک رپورٹس جلد حاصل کرنے کیلئے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔