پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس ،KPمیں گورنر راج،ایمرجنسی کی توثیق

اسلام آباد: (بیورورپورٹ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ،گورنر راج کی توثیق کردی۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے ایمرجنسی ،گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کےلئے قراردادیں پیش کیں ،5گھنٹے سے زائد بحث کے بعد کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا،تحریک کے حق میں 214 ،مخالفت میں 56 ووٹ آئے،اپوزیشن اراکین نے بازوﺅں پر کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی اور شدید احتجاج کیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا صوبہ جل رہا ، امن و امان صورتحال خراب ہو تو سیاست روک کر ریاست کو ترجیح دی جاتی ہے، خیبر پختونخوا میں پچھلے 4 ماہ کے دوران دہشتگردی بڑھی ،اتنے سنگین حالات کے باوجود صوبے میں فرانزک لیبارٹری نہیں ،سی ٹی ڈی کا ڈھانچہ بھی مکمل نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی ساری توجہ سیاست پر تھی، صوبے کے معاملات آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر چلائے جارہے ہوں تو گورنر صدرکو لکھتا ہے، صدر مملکت نے اطمینان کرنے کے بعد وزیراعظم کی ایڈوائس کو منظور کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کوشش کی کے پی حکومت کو دہشتگردی کیخلاف آن بورڈ کریں، فروری میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس کی صدارت کی ، اجلاس کرانے میں جتنی لکیریں نکلوائی گئیں ہمیں پتہ ہے، صرف طے کرنا تھا دہشتگردی کا ملکر مقابلہ کرنا ہے،ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کئی بار ملا،مل بیٹھ کر پلان بنایا5 اضلاع میں پولیس کی نفری بڑھائیں گے، وزیراعلیٰ کو کون ہدایات دیتا تھا یہ الگ بات ہے، دہشتگردی کے مسئلے پر صوبائی حکومت کےساتھ تعاون ،مذاکرات کےلئے ہر ممکن کوشش کی گئی،صوبے میں ایپکس کمیٹی کے قیام کےلئے انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،کے پی میں بیٹھے لوگوں نے ،ایمرجنسی ،گورنر راج کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

محسن نقوی نے کہاوزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے دہشتگردوں کےخلاف کارروائیوں میں ایک بار بھی فوج کےساتھ کھڑا ہونا گواراہ نہیں کیا،پیپلز پارٹی کے کہنے پر لانگ مارچ ختم کرنے کی لائن شامل کی گئی، آخری منٹ تک کوشش رہی مذاکرات ناکام نہ ہوں،اپوزیشن اراکین سے درخواست ہے صوبائی قیادت کے ساتھ بیٹھیں، کسی بھی سیاسی جماعت کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگنا چاہیے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاخیبرپختونخوامیں آئین کے مطابق ایمرجنسی،گورنرراج کا نفاذ کیا گیا، ٹی ٹی پی والوں کو کس نے دوبارہ پاکستان آنے کی اجازت دی؟ 40سے 45 ہزار ٹی ٹی پی کے لوگ دوبارہ لانے کی اجازت دی گئی،غلط فیصلے کرنے والے دہشتگردی واپس لانے کے ذمہ دارہیں، کتنی بار اپنی سیاست کی وجہ سے شہریوں کو شہید کرائیں گے، دہشتگردی سے اب نہیں تو کب نمٹیں گے،فضل الرحمن نے کہا تھا دوبارہ مذاکرات کی کوشش کر لیں، وزیراعظم نے مولاناکو کہا معاملہ دور جا چکا ،معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا ہے، ٹی ٹی پی کا لفظ لکھنے سے انکار کیا گیا، ٹی ٹی پی کا لفظ تو افغان عبوری حکومت استعمال نہیں کرتی، ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بی ایل اے و دیگر گروپس کر رہے ہیں، پاکستان کے پاس دہشتگردی کے شواہدہیں،عالمی اداروں کو پیش کئے جا چکے۔

اسحاق ڈار نے کہاوہ چند لوگ کون تھے جنہوں نے بارڈر کے دروازے کھولے ،دہشتگردوں کو آنے دیا گیا، ٹی ٹی پی کو خوش آمدید کہا گیا،سیاسی غلطیوں سے دہشتگردی واپس آئی،معاملہ سیاسی مفاہمت سے آگے نکل چکا ، پہلے دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنا ہوگا،کابل میں چائے پینے کے بعد دہشتگردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی،دہشتگردوں کو دوبارہ پاکستان آنے کا موقع دینے ،رہا کرنے کے فیصلوں کی ذمہ داری کا تعین ضروری ہے کیونکہ غلطیوں کی بھاری قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑی۔