لاہور (مرزا ندیم بیگ) قتل کیس میں نامزد جیل ملازم کے خلاف کارروائی پر سوالات، رپورٹ ہیڈ آفس نہ بھجوانے کا انکشاف محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں قتل کے مقدمہ میں نامزد ہونے والے ایک اور ملازم کے معاملے نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قتل کیس میں نامزد محکمہ جیل خانہ جات کے ہیڈ کلرک امداد کا دوسرا بھائی الیاس بھی محکمہ جیل کا ملازم نکلا جو ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں تعینات تھا۔ گرفتار ہونے کے بعد اسے نارووال جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ بعد ازاں اسے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے معطل بھی کر دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیاس کے خلاف کارروائی کے باوجود اس معاملے کی مکمل رپورٹ ہیڈ آفس بھجوائی ہی نہیں گئی جس پر محکمانہ نگرانی اور ذمہ داری کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ الیاس کے ٹرانسفر آرڈرز 8 مئی 2025 کو جاری ہوئے تھے تاہم اسے کافی عرصہ گزرنے کے بعد حال ہی میں سپرنٹنڈنٹ سیالکوٹ جیل کی جانب سے ریلیو کیا گیا، جسے محکمانہ حلقے ایک معمہ قرار دے رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ معطلی اور شوکاز نوٹس کے باوجود مذکورہ ملازم کو تنخواہیں بھی ملتی رہیں جبکہ شوکاز کے بعد نہ تو کوئی باقاعدہ انکوائری منطقی انجام تک پہنچائی گئی اور نہ ہی کوئی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ محکمانہ حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ قتل کے مقدمہ میں نامزد 302 کے ملزم کو نوکری سے برخاست کرنے، لائن حاضر کرنے یا سخت کارروائی کرنے کے بجائے صرف ٹرانسفر کر دینا کس بنیاد پر کیا گیا حالانکہ معطل ہونے کی صورت میں سرکاری کوئی بھی ملازم ہو اسے کلوز ٹو لائن کیا جاتا ہے ،ذرائع کے مطابق اگر ہیڈ آفس کو واقعہ کی رپورٹ بھجوائی ہی نہیں گئی تو اس غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ بعض حلقے اس پورے معاملے کو مبینہ ملی بھگت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔دوسری جانب ہیڈ کلرک امداد نے رابطہ کرنے پر مو¿قف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت موقع پر صرف اس کا چھوٹا بھائی الیاس موجود تھا جبکہ وہ خود اور ایک دوسرا بھائی ڈیوٹی پر موجود تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ زمین کا تنازعہ اس واقعہ کی بنیادی وجہ بنا اور مخالف پارٹی نے دشمنی کی بنا پر تمام بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے نام مقدمہ میں شامل کرا دیئے۔امداد کے مطابق پولیس نے تحقیقات کے دوران اسے اور اس کے دوسرے بھائی کو بے گناہ قرار دیا کیونکہ وقوعہ کے وقت ان کی ڈیوٹی کے شواہد موجود تھے۔ اس نے کہا کہ پولیس نے انہی ثبوتوں کی بنیاد پر انہیں مقدمہ سے بے گناہ کیا۔ادھر محکمہ جیل خانہ جات کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ ایسے حساس مقدمات میں مکمل شفاف محکمانہ انکوائری ضروری ہوتی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی گئی یا نہیں، جبکہ ہیڈ آفس کو بروقت رپورٹ نہ بھجوانے کے معاملے کی بھی چھان بین ہونی چاہئے۔
قتل کیس میں نامزد جیل ملازم کی رپورٹ ہیڈ آفس نہ بھجوانے کا انکشاف



















