ریلوے ورکشاپ ڈویژن کیرج شاپس ، جعلی حاضریاں،ادارے کو بھاری مالی نقصان

لاہور (قمر عباس نقوی) پاکستان ریلوے ورکشاپ ڈویژن کیرج شاپس میں مبینہ کرپشن، جعلی حاضریوں، بوگس اوور ٹائم اور الاونسز کی بندر بانٹ نے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان کا انکشاف۔ ذرائع کے مطابق ورکشاپس میں ملازمین کی حاضری کا مکمل نظام ٹائم آفس کے ذریعے چلایا جاتا ہے جو ہیڈ ٹائم کیپر کے کنٹرول میں ہوتا ہے، جبکہ اس پورے عمل کی نگرانی ڈبلیو ایم اور اے ڈبلیو ایم کرتے ہیں۔ دوسری جانب عملی طور پر ملازمین کے کام اور موجودگی کا اختیار متعلقہ فورمین کے ہاتھ میں ہوتا ہے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر رد و بدل کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ٹائم آفس سے تیار ہونے والے حاضری ریکارڈ فورمینز کو فراہم کر دیا جاتا ہے جہاں انہیں مرضی کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے بعد ازاں ریکارڈ میں مبینہ طور پر ردو بدل کرکے اے ڈبلیو ایم جی کی منظوری کے بعد آگے بھجوا دیا جاتا ہے اسی طریقہ کار کے تحت مبینہ جعلی اوور ٹائم، پیس ورک الاونس، لوکو 70 الاونس اور دیگر مالی فوائد بنائے جاتے ہیں ورکشاپ ذرائع کے مطابق بوگس حاضری کی سہولت فراہم کرنے کی خاطر لاکھوں روپے کی مبینہ رشوت وصول کی جاتی ہے۔ جعلی حاضریاں لگوانے اور ناجائز مراعات حاصل کرنے والے ملازمین سے مبینہ طور پر فورمین، بعض افسران اور انتظامی اہلکار باقاعدہ حصہ وصول کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر ایک مزدور کی اصل حاضری اور کام کا ریکارڈ بھی محفوظ نہیں تو پھر قومی خزانے کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا متعدد فورمین نے ورکشاپس میں خوف اور دباو کا ماحول قائم کر رکھا ہے مزدور نہ صرف سخت مشقت کرنے پر مجبور ہیں بلکہ مبینہ طور پر رشوت، دھونس اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا بھی سامنا کر رہے ہیں عبدالقادر فورمین (گریڈ 16)، قاضی فورمین، یاسر فورمین اور دیگر چند نام اکثر ملازمین کی گفتگو میں زیرِ بحث رہتے ہیں، جن کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے یہ معاملہ محض چند جعلی حاضریوں کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے ذرائع کا کہنا تھا کہ حاضری، اوور ٹائم اور الاونسز جیسے بنیادی معاملات بھی شفاف نہ ہوں تو پھر کرپشن کا راستہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر جدید دور میں بھی ورکشاپس میں مکمل ڈیجیٹل اور بائیو میٹرک نظام نافذ نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ملازمین اور مزدوروں نے اعلیٰ ریلوے حکام، وزارتِ ریلوے اور احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کیرج شاپس اور ورکشاپ ڈویژن کے حاضری نظام کا فوری فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ مختلف شاپس کے ملازمین کی جانب سے چیئرمین ریلویز کو تحریری شکائت بھی کی گئی ہے۔ ریلویز حکام کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا حاضری کو مختلف طریقہ کار سے چیک کیا جاتا ہے باقی اس نشاندہی پر ذمہ دران سے مزید معلومات حاصل کرتے ہوئے شفافیت کو یقینی بنا یا جا ئیگا۔