لاہور(مرزا ندیم بیگ) لاہور پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 شہریوں کی فوری مدد کا اہم ذریعہ بن گئی، تاہم چھ ماہ کے دوران موصول ہونے والی کالز، پولیس کے عملی رسپانس، مقدمات کے اندراج اور محض اطلاع یا غیر موثر قرار دیکر نمٹائی جانے والی کالز کے اعدادوشمار میں نمایاں فرق سامنے آنے کا امکان ہے،دستیاب پولیس نظام کے مطابق ہیلپ لائن 15 پر موصول ہونے والی کالز کو متعلقہ پولیس ٹیموں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ پولیس سٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مقدمات اور تفتیشی پیش رفت کو ڈیجیٹل طور پر مانیٹر کیا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے 15 کو پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن کے طور پر درج کیا گیا ہے۔محکمانہ ریکارڈ کے مطابق یکم مارچ سے 31 اگست 2026 تک لاہور میں 15 پر مجموعی طور پر کالز موصول ہوئیں۔ ان میں سے کالز پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر عملی کارروائی کی، کالز پر پولیس نے شہریوں کو قانونی معاونت یا دیگر مدد فراہم کی جبکہ کالز کے نتیجے میں مقدمات درج کئے گئے،اعدادوشمار کے تقابلی جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 15 پر موصول ہونے والی تمام کالز فوجداری مقدمات میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ ایک بڑی تعداد ایسی کالز کی ہوتی ہے جن میں شہری پولیس کو کسی واقعہ، مشکوک سرگرمی، جھگڑے، ٹریفک صورتحال، گمشدگی، گھریلو تنازع یا دیگر معاملے سے صرف آگاہ کرتے ہیں۔ ایسی کالز میں پولیس موقع پر پہنچ کر معاملہ ختم کر دیتی ہے یا کال کو اطلاع کی حد تک نمٹا دیا جاتا ہے،ذرائع کے مطابق چھ ماہ کے دوران _ کالز غیر موثر، غیر متعلقہ، غلط اطلاع یا محض معلوماتی نوعیت کی قرار دے کر نمٹائی گئیں، جبکہ _ کالز میں پولیس کی فوری مداخلت ضروری سمجھی گئی،رپورٹ کے مطابق 15 کالز اور مقدمات کے اندراج کا تناسب پولیس کی کارکردگی جانچنے کیلئے بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اگر موصول ہونے والی ہر کال کو مقدمے کے ساتھ منسلک کیا جائے تو پولیس پر غیر ضروری مقدمات درج کرنے کا دباو بڑھ سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب حقیقی جرائم کی کالز کو صرف اطلاع قرار دے کر نمٹا دینے سے شہریوں کی شکایات اور پولیس رسپانس پر سوالات اٹھ سکتے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 کالز پر پولیس کے رسپانس ٹائم، موقع پر پہنچنے والی ٹیموں، کال کی نوعیت اور بعد ازاں درج ہونے والے مقدمات کو ایک دوسرے سے منسلک کرکے جائزہ لیا جائے تو لاہور پولیس کی فیلڈ کارکردگی کا زیادہ واضح اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اس حوالے سے ایک اہم پیشرفت یہ ہے کہ پنجاب پولیس کے نظام میں شکایات اور مقدمات کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ پہلے ہی موجود ہے۔ پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت FIRs کا ریکارڈ الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جاتا ہے اور افسران کیس کی صورتحال، تفتیش، چالان اور دیگر تفصیلات مانیٹر کر سکتے ہیں،قبل ازیں 15 کالز کو ای ٹیگ کے ذریعے شکایت کے نظام سے منسلک کرنے کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا تھا، جس کا مقصد شہریوں کی شکایات کے اندراج اور ان پر ہونے والی کارروائی کو زیادہ قابل نگرانی بنانا تھا،دلچسپ امر یہ ہے کہ 15 پر موصول کالز کی تعداد اور انہی کالز کے نتیجے میں درج ہونے والی FIRs کا تقابلی جائزہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ شہریوں کی کتنی کالز حقیقی جرائم سے متعلق تھیں، پولیس نے کتنی کالز پر فوری رسپانس دیا اور کتنے واقعات قانونی کارروائی تک پہنچے،پولیس ذرائع کے مطابق 15 ہیلپ لائن کو مزید مو¿ثر بنانے کیلئے کالر کی لوکیشن، متعلقہ پولیس ٹیم اور رسپانس ٹائم کی نگرانی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ لاہور پولیس میں جدید ٹیکنالوجی اور جغرافیائی لوکیشن کی بنیاد پر فوری پولیس رسپانس کے نظام کو بھی وسعت دی گئی ہے،رپورٹ میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ 15 پر موصول ہونے والی کتنی کالز کے باوجود پولیس ٹیم موقع پر نہیں پہنچ سکی، کتنی کالز میں رسپانس میں تاخیر ہوئی اور تاخیر کی وجوہات کیا رہیں؟ اگر یہ تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں تو لاہور پولیس کے ایمرجنسی رسپانس سسٹم کی حقیقی کارکردگی کا جامع جائزہ ممکن ہوگا۔
”15“ شہریوں کی فوری مدد کا اہم ترین ذریعہ بن گئی


















