لاہور پولیس ، زیرتفتیش مقدمات میں سست روی ، ناقص تفتیش کی شکایات کا سلسلہ جاری

لاہور (مرزا ندیم بیگ) لاہور پولیس کے زیر تفتیش مقدمات کو بروقت منطقی انجام تک پہنچانے کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق پولیس کے خلاف سست اور ناقص تفتیش سے متعلق شکایات کی بڑی تعداد سامنے آ رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کرنے تک کا مرحلہ شہریوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے،سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف سال 2025 کے دوران پنجاب پولیس کے آئی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 پر 39 ہزار سے زائد شکایات سست تفتیش سے متعلق موصول ہوئیں، جبکہ 7,853 شکایات ناقص تفتیش کے حوالے سے نمٹائی گئیں۔ اسی عرصے میں مقدمات کے اندراج سے متعلق 64 ہزار سے زائد شکایات بھی حل کی گئیں،رواں سال بھی تفتیش میں تاخیر کے خلاف شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ مئی 2026 تک پنجاب پولیس کے مطابق 1787 پر 8,270 سست تفتیش کی شکایات اور 1,646 ناقص تفتیش کی شکایات حل کی جا چکی تھیں، جبکہ مقدمات کے اندراج سے متعلق 17,249 شکایات کا ازالہ کیا گیا،پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمات کی تفتیش اور چالان کی پیشرفت کو مانیٹر کرنے کیلئے پولیس سٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم فعال ہے جس میں ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ ملزمان، گواہوں، کیس ڈائری، چالان کی تاریخ اور آئندہ سماعت سمیت مقدمے کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں،لاہور میں قتل، اغوا، ڈکیتی، زیادتی، بچوں سے زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں تفتیش مکمل نہ ہونے کے باعث متاثرین کو انصاف کے حصول کیلئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بچوں سے زیادتی کے مقدمات کی ایک حالیہ مثال میں یکم جنوری سے 28 جون 2026 تک لاہور میں درج 120 مقدمات میں سے 34 مقدمات خارج، 66 کے مکمل یا نامکمل چالان عدالتوں میں بھجوائے گئے جبکہ 20 مقدمات تاحال تفتیش میں تھے،یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کافی نہیں بلکہ اصل امتحان تفتیش مکمل کرکے ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کرنا ہے،پولیس ذرائع کے مطابق سنگین مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں ملزمان کا گرفتار نہ ہونا، اشتہاری ملزمان کی عدم دستیابی، گواہوں کے بیانات کا مکمل نہ ہونا، فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کا انتظار، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ، میڈیکل رپورٹس، شناخت پریڈ اور مختلف اداروں سے رپورٹس کا حصول شامل ہیں،اس کے علاوہ بعض مقدمات میں تفتیشی افسر کی تبدیلی، ایک تفتیشی افسر کے پاس مقدمات کی زیادہ تعداد، کیس ڈائری کی تکمیل میں تاخیر اور شواہد اکٹھے کرنے میں غفلت بھی چالان میں تاخیر کا باعث بنتی ہے،پولیس نے زیر التوا مقدمات کے چالان جلد عدالتوں میں بھجوانے کیلئے تفتیشی افسران کی مانیٹرنگ کا نظام قائم کر رکھا ہے، تاہم 1787 پر سست اور ناقص تفتیش سے متعلق مسلسل بڑی تعداد میں شکایات اس نظام کی عملی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہیں،پنجاب پولیس کے مطابق مقدمات کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے اور اعلیٰ افسران کسی بھی مقدمے کی تفتیش، ریکوری، گواہوں، کیس ڈائری اور چالان کی تاریخ سمیت مختلف تفصیلات دیکھ سکتے ہیں،پولیس افسران اور قانونی ماہرین کے مطابق قتل، زیادتی، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، بچوں سے زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات کا ماہانہ بنیادوں پر الگ آڈٹ کیا جانا چاہیے۔ ہر مقدمے میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ ایف آئی آر کے بعد کتنے دنوں میں ملزم گرفتار ہوا، کتنے دنوں میں شواہد اکٹھے کیے گئے، فرانزک رپورٹ کب موصول ہوئی اور چالان عدالت میں کب جمع کرایا گیا،ذرائع کے مطابق زیر تفتیش مقدمات کے بیک لاگ کو ختم کرنے کیلئے تفتیشی افسران کی کارکردگی کو صرف گرفتاریوں سے نہیں بلکہ چالان کی بروقت تکمیل، شواہد کے معیار اور عدالت میں مقدمے کے نتیجے سے منسلک کرنا زیادہ مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے،لاہور پولیس کے گزشتہ 12 ماہ کے مکمل ریکارڈ سے ہر تھانے کے حساب سے درج مقدمات، مکمل تفتیش، عدالتوں میں جمع کرائے گئے چالان، نامکمل چالان اور زیر تفتیش مقدمات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں تو پہلی مرتبہ یہ واضح ہو سکے گا کہ لاہور کے کن تھانوں اور کن نوعیت کے مقدمات میں تفتیش سب سے زیادہ تاخیر کا شکار ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کے پاس یہ تمام معلومات پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں موجود ہیں، اسلئے ان اعدادوشمار کو مرتب کرکے عوام کے سامنے لانا شفافیت اور انصاف کی فراہمی کیلئے اہم قدم ہوگا۔