کراچی: (بیورورپورٹ) گل پلازہ انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے،جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری کردی گئی،جسٹس آغا فیصل نے دیباچہ میں مصطفی زیدی کا شعر بھی شامل کیا:میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں،تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔
رپورٹ کے مطابق عمارت خطرناک ،فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کی حالت میں مسلسل تجارتی استعمال میں رہی،انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے،2024 ، 2025 کی سول ڈیفنس رپورٹ میں فائر سیفٹی کے آلات کی عدم موجودگی، آتش گیر مادے کی موجودگی اور خارجی راستوں کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی،رپورٹ میں کہا گیاآگ کی اطلاع فائر بریگیڈ کو دینے میں انتہائی غیر دانشمندانہ تاخیر کی گئی، بجلی منقطع کرنے سے اندھیرے کے باعث بالائی منزلوں سے باہر نکلنے کے امکانات مزید کم ہوئے،عمارت میں سپیکر سسٹم کی موجودگی کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا، گل پلازہ کے ریگولرائزڈ پلان میں 1102 دکانیں لیکن حقیقتاً 1153 دکانیں موجود ،بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان موجود تھا،اپنے رسپانس کے معیار کے برخلاف فائر بریگیڈ پہنچنے میں تاخیر ہوئی، تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد موثر فائر فائٹنگ شروع ہوئی،پانی کی کمی ،ری فلنگ نے فائر فائٹنگ اور ریسکیو کو متاثر کیا۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا فائر بریگیڈ کے پاس اہم آلات کی بروقت تعیناتی نہ ہونے سے عمارت میں پھنسے قابل رسائی افراد کو بچانے کے امکانات کم ہوئے،فائر سٹیشنز پر پانی کے ذخائر موجود ہونے کے دعوے کے باوجود ابتدائی مرحلے پر پانی کی موثر فراہمی نہ ہونا اہم انتظامی سوال ہے،سول ڈیفنس کی 2024 اور 2025 کے معائنے میں سامنے آنے والی نقائص کو دور کرنے کےلئے قانونی کارروائی نہیں کی گئی، 2025 میں عدالتوں کے فعال ہونے کے بعد بھی قانونی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا گیا،سول ڈیفنس کی ناکامی خطرے سے لاعلمی نہیں بلکہ معلوم خطرے پر عملدرآمد نہ کرانے کی ناکامی ہے،ضلعی انتظامیہ نے ہائی کورٹ کی ہدایت پر قائم 3سطحی فائر آڈٹ نظام کے باوجود گل پلازہ کا مشترکہ آڈٹ نہیں کرایا، ڈپٹی کمشنر جنوبی آفس آڈٹ اور نگرانی کے دستیاب نظام کو فعال نہ کرنے پر ادارہ جاتی طور پر ذمہ دار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایس بی سی اے شکایت کی بنیاد پر معائنے کے موقف سے ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا، سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کے تحت خطرناک عمارت میں اصلاحی کارروائی کا اختیار موجود تھا،گل پلازہ کے نامکمل ریکارڈ اور فائر سیفٹی پرموثر نگرانی نہ ہونے پر ایس بی سی اے ذمہ دار ہے،رپورٹ میں کہا گیا ریسکیو 1122 اہلکار آگ لگنے کے بعد پہنچے لیکن تب بھی ریسکیو کا موثر موقع باقی تھا، سوا گیارہ سے گیارہ بج کر 20 منٹ تک ریسکیو ممکن اور کچھ متاثرین بھی نظر آ رہے تھے،ساڑھے گیارہ بجے تک ریمپ سے رسائی بھی ممکن تھی، ریسکیو 1122 نے دستیاب وقت کو بڑے پیمانے کے ریسکیو آپریشن میں تبدیل نہیں کیا،لوگ صرف آگ نہیں بلکہ تاخیر، اندھیرے، بند راستوں اور رکاوٹ بننے والی کھڑکیوں کے باعث جان سے گئے،غیر فعال حفاظتی نظام، غیر موثر آڈٹ، بکھری ہوئی ادارہ جاتی ذمہ داری ،بروقت استعمال نہ کیے جانے والے ریسکیو مواقع کے باعث جانی نقصان ہوا۔
گل پلازہ انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے،جوڈیشل کمیشن رپورٹ


















