اپوزیشن کےساتھ بیٹھک،احتجاج ،انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی،حکومت

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)حکومت ،اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کاایک اور دورہوگا،پہلی بیٹھک سپیکر چیمبر میں ایاز صادق کی زیر صدارت ہوئی،طلال چودھری، محسن نقوی، شیری رحمن، رانا ثنا،طارق فضل چودھری ،علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر ، سلمان اکرم راجہ نے شرکت کی،وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا میں قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی،مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا ،فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔

حکومتی ٹیم نے واضح کیااپوزیشن لانگ مارچ ختم کرے، احتجاج ،انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی، لانگ مارچ، دھمکیاں دینا اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات کرنا درست نہیں، مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نہیں ،اپوزیشن کو بھی کرنا ہو گا،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فریقین پر افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا،اپوزیشن قیادت اور محمود اچکزئی کا موقف بیرسٹر گوہر نے حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا، پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی ،پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے،عدالتی معاملات پر مشیر سیاسی امور رانا ثنا ،اپوزیشن لیڈر سینٹ علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، سپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے ماحول بہتر کیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی سمیت حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا،رانا ثنا نے کہا عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں ،لانگ مارچ پر عدالتی فیصلوں پر عمل کرایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماﺅں نے دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرلیا،مذاکرات کے آغاز پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا حکومت ،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف نکات پیش کیے اور تحریک طالبان پاکستان کے حملوں ،امن و امان کی صورتحال کو خیبر پختونخوا حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی موقف مسترد کرتے ہوئے کہا دہشتگردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں، مذاکرات کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، اراکین اسمبلی کی گرفتاریوں کا ذمے دار کون ہے،تحریک انصاف کے رہنما اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، بانی چیئرمین سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی رہنماﺅں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے، مسائل کا حل محمود اچکزئی اور بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد ہی نکل سکتا ہے۔

شیری رحمن نے سوال کیا کیا ضمانت ہے پھرمسائل حل ہو جائیں گے؟ علامہ راجہ ناصر عباس نے جواب دیا میں ذمے داری لیتا ہوں، بانی چیئرمین سے ملاقات ہو گی تو حالات بہتر ہوں گے، جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔

بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمن نے کہا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ نہیں بالکل ختم کرنا ہوگا، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال ،فتنہ الخوارج و دیگر کے حملوں میںشہادتیں ہورہی ہیں،فرد واحد کےلئے کبھی بھی لانگ مارچ نہیں کرتے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا مذاکرات حکومتی خواہش پر شروع ہوئے ، لانگ مارچ ضرور ہو گا اور مذاکرات کےساتھ جاری رہے گا،انصاف مکمل ختم ،بانی سے ملاقات ،مشاورت چاہیے، ملاقات ہوئی تو معاملہ آگے بڑھے گا ورنہ صورتحال جوں کی توں رہے گی۔

مشیر وزیراعظم رانا ثنا نے کہاپی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی کال واپس لینی چاہیے، لانگ مارچ اور انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں، معاملات مذاکرات سے طے ہو سکتے ہیں، عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا ،سینئر ڈاکٹرز کے پینل نے معائنہ کیا، مقصد طبی معائنہ تھا، نجی ہسپتال نہ سہی دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے ہونا چاہیے،حکومت ،اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز مثبت پیش رفت ہے ، سیاسی درجہ حرارت میں بہتری آئے گی،ملکی ترقی ،مسائل کا حل بات چیت ہی سے ممکن ہے،پاکستان مزید احتجاج اور مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا حکومت نے بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا،ہر مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے،امید ہے اپوزیشن مثبت رویہ اپنائے گی۔