انتظامیہ کا میوہسپتال لنڈا بازار کیخلاف ”نمائشی“ آپریشن، فوٹو سیشن کے بعد دوبارہ بحال

لاہور (خبرنگار/ تصاویر: شاہنواز) انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اتوار کے روز ایم او آر نے میو ہسپتال کی دیوار پر لگے لنڈا بازار کے خلاف نمائشی آپریشن کیا۔ فوٹو سیشن ہوا، ٹک ٹاک ویڈیوز بنیں اور اس کے فوراً بعد لنڈا بازار دوبارہ بحال کروا دیا گیا۔ یعنی جو بازار صبح ”تجاوزات“تھا، شام تک ”جائز“ ہو گیا اور کیمروں کے سامنے ہونے والی کارروائی کیمرے بند ہوتے ہی ختم ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ ایم او آر کی اس کارروائی سے باخبر تو ہے لیکن فی الحال کوئی کارروائی ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپریشن سچ مچ تجاوزات کے خلاف تھا تو بحالی کس کے کہنے پر ہوئی اور اگر بحالی ہی کرنی تھی تو ہسپتال کے سامنے یہ تماشہ کیوں لگایا گیا؟ میو ہسپتال جیسے مصروف مقام کے گرد قائم تجاوزات پہلے ہی مریضوں، انکے تیمارداروں اور ایمبولینسوں کیلئے مستقل درد سر بنی ہوئی ہیں۔ ہسپتال کے راستوں پر ٹھیلے اور لنڈے کے ڈھیر ایمرجنسی میں پہنچنے والے مریضوں کی خدا ناخواستہ موت کا باعث بنے ہوئے ہیں، مگر شہریوں کے بقول اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ ایک آپریشن کے نام پر چند گھنٹوں کی کارروائی اور پھر بحالی کا مطلب ان کے نزدیک یہی ہے کہ تجاوزات ہٹانا مقصد تھا ہی نہیں، مقصد صرف یہ دکھانا تھا کہ ”کام ہو رہا ہے“۔ مقامی دکانداروں اور شہریوں میں بھی یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اگر ہر آپریشن کے بعد بازار اسی طرح واپس آ جاتے ہیں تو پھر عملے اور سرکاری وسائل کا خرچ کس کھاتے میں ڈالا جاتا ہے؟ دوسری جانب ایم او آر جوادالحسن گوندل کے بارے میں عوامی تاثر یہی ہے کہ وہ اپنے مشیروں کے ذریعے تجاوزات پر مبینہ طور پر رشوت وصول کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ شالامار زون میں عروج پر بتایا جاتا ہے، جہاں رات گئے مبینہ طور پر رشوت کے پیسوں کا حساب کتاب چلتا رہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس ”آپریشن اور بحالی“کا نوٹس لیکر شفاف انکوائری کرواتی ہے یا معاملہ اگلے فوٹو سیشن تک دب جاتا ہے۔