میٹروپولیٹن کارپوریشن ریگولیشن ونگ میں افسرشاہی کی من مانیاں

لاہور(نوید چودھری) میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کا ریگولیشن ونگ آئین، قانون اور سرکاری اصولوں سے بالا تر ہو کر ”انادھیکار راج“کی بدترین مثال بن چکا ہے، جہاں افسرشاہی کی من مانی اور اقربا پروری نے انتظامیہ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سرکاری قواعد کو روندتے ہوئے من پسند افراد کی آو بھگت کیلئے نہ صرف زبردستی کے غیر قانونی عہدے گھڑ لئے گئے ہیں، بلکہ قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کارپوریشن کے اندر ایک الگ ہی شاہی دربار سجا لیا گیا ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اور ایم سی ایل کے باقاعدہ شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ 2017 کے تحت کسی بھی مقامی حکومت کو اپنی مرضی سے ملازمین اور افسران کی تعداد، کیڈر یا عہدوں کے نام میں تبدیلی کا کوئی اختیار حاصل نہیں، مگر ایم سی ایل کے ریگولیشن ونگ میں حال ہی میں جاری ہونے والے دو متنازع احکامات نے اس انتظامی بد نظمی کا پول کھول دیا ہے۔یہاں یہ بات بھی بالکل واضح اور قابلِ غور ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور میں زونل افسران ریگولیشن کی آسامیاں پنجاب لوکل گورنمنٹ سروس کے ملازمین کیلئے قانونی طور پر مختص ہیں اور ان عہدوں پر صرف لوکل گورنمنٹ کے کیڈر افسران ہی تعینات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایم سی ایل کا نظام زونز کے تحت چلتا ہے نہ کہ تحصیلوں پر اور یہاں تحصیلوں کا کوئی نظام نافذ العمل نہیں۔ لیکن ایم سی ایل انتظامیہ کی بوکھلاہٹ اور اقربا پروری کا عالم یہ ہے کہ متعدد زونوں میں لوکل گورنمنٹ کے اہل اور قانونی زونل افسران ریگولیشن پہلے سے تعینات ہونے کے باوجود اپنے منظورِ نظر افسران کو نوازنے کیلئے انہیں عملاً غیر فعال اور بے اختیار کر دیا گیا ہے۔حکومت سے منظور شدہ شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ 2017 میں 9 زونز کیلئے الگ الگ زونل افسران کا فریم ورک موجود ہونے کے باوجود انتظامیہ نے ایس او ای سے ہٹ کر ”انچارج آپریشن“ اور ”انچارج مانیٹرنگ سیل“ کے غیر قانونی عہدے تخلیق کیے۔ ان خود ساختہ عہدوں کے ذریعے قانون کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایم سی ایل کیڈر کے افسر شہزاد رسول فاروق کو "انچارج آپریشن ریگولیشن ونگ" ظاہر کر کے پانچ تحصیلوں کا چارج تھما دیا گیا، جبکہ لوکل گورنمنٹ کی خاتون افسر سدرہ ظفر خان کو ”انچارج مانیٹرنگ سیل ریگولیشن ونگ“کا نام دے کر دو تحصیلوں کا اضافی چارج سونپ دیا گیا۔ اس طرح نو زونز کے باضابطہ نظام کی موجودگی میں تحصیلوں کی بنیاد پر ایک غیر قانونی اور متوازی انتظامی سٹرکچر کھڑا کر دیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ جس مجاز اتھارٹی یعنی ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل کے نام پر یہ من مانے احکامات جاری کیے گئے، معلوم ہوا ہے کہ ان کی کوئی باقاعدہ منظوری یا قانونی اجازت ہی شامل نہیں تھی اور چیف آفیسر کے دستخطوں سے احکامات جاری کر کے اعلیٰ حکام کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا۔ ایک ہی تاریخ کو آپس میں قریبی رشتہ دار اور ہم بیچ افسران کو سات تحصیلوں کا مالک بنا دینے کے اس عمل نے پورے سلیکشن اور سفارش کے نظام کو مشکوک بنا دیا ہے۔جب شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ 2017 اور لوکل گورنمنٹ قوانین میں میٹروپولیٹن آفیسر اور 9 زونل افسران کا واضح فریم ورک موجود ہے تو پھر اپنے من پسند افراد کو نوازنے کیلئے زونل افسران کو بے اختیار کر کے ایسے خود ساختہ عہدے کس قانون کے تحت تخلیق کیے گئے؟ یہ صورتحال سیکرٹری ایل جی اینڈ سی ڈی اور اعلیٰ حکام کیلئے ایک بڑا تازیانہ ہے کہ وہ ایم سی ایل میں جاری اس قانونی انارکی کا فوری نوٹس لیں، تمام ریکارڈ طلب کر کے اس متوازی اور غیر قانونی نظام کو کالعدم قرار دیں اور خود ساختہ قوانین چلانے والے ذمہ داروں کا سخت احتساب کریں۔