لاہور (نعیم جاوید) لاہور میں نجی کلینکس، ہسپتالوں، تشخیصی مراکز اور دیگر طبی اداروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نظام سے منسلک کرنے کا معاملہ ٹیکس حکام اور طبی برادری کے درمیان اختلافات کا باعث بن گیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے طبی اداروں پر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) اور برقی انوائسنگ نظام کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ علاج معالجے کے اداروں کو تجارتی مراکز کے طرز پر دیکھنے سے انتظامی اخراجات اور مریضوں پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور کاروباری لین دین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے برقی انوائسنگ اور نظام سے منسلک ہونے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر کے سرکاری قواعد کے مطابق جن رجسٹرڈ اداروں کو اس نظام سے منسلک ہونے کا پابند قرار دیا گیا ہے، انہیں مقررہ طریقہ کار کے تحت اپنا فروخت یا انوائسنگ نظام مربوط کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) بھی اس عمل میں تکنیکی معاونت فراہم کرتی ہے۔ تاہم طبی اداروں کے حوالے سے لاہور میں عمل درآمد کی اصل صورت حال جاننے کیلئے مقامی سطح کا مستند سرکاری ریکارڈ ضروری ہے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے رواں سال فروری میں ایف بی آر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ ڈاکٹروں، دندان سازوں، فزیوتھراپسٹس، لیبارٹریوں، تشخیصی مراکز، نجی ہسپتالوں اور طبی مراکز کو پی او ایس اور برقی انضمام کے لازمی نظام سے خارج کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے مریضوں کی رازداری متاثر ہو سکتی ہے اور علاج کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ٹیکس حکام کا مو¿قف یہ ہے کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے لین دین کا ریکارڈ بہتر بنایا اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکتا ہے طبی برادری کے اعتراضات میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ہسپتالوں اور کلینکس میں مشاورت، تشخیص، آپریشن، داخل مریضوں کی دیکھ بھال اور دیگر طبی خدمات کا طریقہ کار عام دکانوں سے مختلف ہے اسلئے نظام کے نفاذ کے دوران مریضوں کی معلومات کے تحفظ، بلنگ کے طریقہ کار اور تکنیکی سہولتوں کو مدنظر رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
نجی کلینکس اور ہسپتالوں پر پی او ایس نظام کا نفاذ، ایف بی آر اور طبی برادری آمنے سامنے



















