لاہور ( میاں ساجد سے) پی ٹی آئی کا احتجاج قوم کے مفاد میں نہیں ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اپنے صوبے کیلئے کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ 27 ستمبر کا احتجاج موخر کرنے کی اصل وجوہات عوام نے انکا اصل چہرہ دیکھ لیا، پی ٹی آئی این آر اوکے حصول کیلئے کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ احتجاج سے کچھ نہیں ہونے والا پاکستانی معیشت کو جو نقصان لاحق ہوگا اس کا خمیازہ کون بھگتے گا پی ٹی آئی کا اصل ایجنڈہ دھرنا اور احتجاج ہے جس کی اہمیت سے عوام واقف ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے پی ٹی آئی نے عوام کو گھر بیٹھے بہت سے خواب دکھائے تھے جو آج تک ادھورے ہیں۔ پی ٹی آئی کا احتجاج کل ہو پرسوں ہو یا 4 اکتوبر کو حکومت کو اس کا کوئی بھی دباﺅ نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق ہے لیکن ایسا احتجاج اور دھرنا نہیں جس سے ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہو کر عوام کے مسائل پیدا کرے۔ ان خیالات کا اظہارچیئرمین لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب پیر اشر ف رسول کی روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جماعت کے سربراہ سے لے کر ورکر تک ان کا پہلا ایجنڈہ احتجاج کی سیاست ہے روداری اور بردباری نہ ان کے اعلی لیڈران میں ہے اور نہ ہی سہیل آفریدی جیسے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بھی انہیں میں ایک ہیں۔ اس سے قبل علی امین گنڈا پور جو اسی صوبہ کے وزیر اعلی کے عہدہ پر متمکن تھے انہوں نے بھی اپنے نمبر بنانے کیلئے ایسے احتجاج کو پوری پی ٹی آئی جماعت کو کال دی جس میں کامیاب تو نہیں بلکہ اپنا بستر ا ہی گول کرواکر پارٹی سے ہی روپوش ہیں۔ وفاق ہو پنجاب ہو احتجاج کے متحمل نہیں ، این آراو چاہیے ہے تو ویسے ہی کوئی حکمت عملی مرتب کر لیتے۔ پوری قوم کو احتجاج کی کال دے کر پریشا نی میں مبتلاکرنا احسن اقدام نہیں۔ خبیر پختونخواہ مستائلستان کا گڑھ اس کیلئے سہیل آفریدی کے اس کی بہتری کیلئے کچھ بھی ایجنڈا نہیں لیکن حکومت کو سبق سکھانے کیلئے ان کے پاس حکومتی وسائل بھی جسے وہ بے دریغ استعمال کرکے احتجاج کی روش اختیار کریں گے جو کہ ان کی جانب سے نامناسب رویہ ہے چیئرمین لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب پیر اشرف رسول نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آئینی و قانونی دائرہ کار میں احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم ایسا احتجاج نہیں ہونا چاہیے جس سے ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کا احتجاج مو¿خر کرکے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ دینا ایک سیاسی فیصلہ ہے، اس کی وجوہات کے بارے میں پارٹی قیادت ہی حتمی وضاحت دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے احتجاج کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کیلئے پہلے ہی سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی گئی تھیں۔پیر اشرف رسول نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسی مقصد کیلئے پولیس، رینجرز اور دیگر متعلقہ اداروں کو متحرک کیا گیا۔ ان کے مطابق احتجاج کل ہو، پرسوں ہو یا 4 اکتوبر کو، حکومت کا بنیادی فرض شہریوں کے جان و مال، سرکاری و نجی املاک اور کاروباری سرگرمیوں کا تحفظ ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی توجہ گورننس، عوامی سہولیات اور ترقیاتی امور پر مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک احتجاجی سیاست کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم یہ ان کا سیاسی مو¿قف ہے اور پی ٹی آئی اس سے اختلاف کر سکتی ہے۔پیر اشرف رسول نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے دور کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاجی کالز دی گئیں لیکن ان سے سیاسی مسائل حل ہونے کے بجائے عوام اور ریاستی اداروں پر اضافی دباو¿ پیدا ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے میں طویل احتجاج، شاہراہوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ سے معیشت پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے اور بالآخر اسکے اثرات عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسی سیاسی جماعت کے پ±رامن احتجاج کے حق کی مخالفت نہیں کرتی، تاہم قانون کی پابندی، عوامی املاک کا تحفظ اور شہریوں کی آمدورفت کو یقینی بنانا بھی تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔
سہیل آفریدی پارٹی کیلئے این آر او حاصل کرنا چاہتے ہیں: پیر اشرف رسول



















