کرپشن کیخلاف مہم، پٹوار خانوں کی مبینہ غیراعلانیہ تالہ بندی، شہریوں کے معاملات شدید متاثر

لاہور (میاں ذیشان) صوبائی دارلحکومت لاہور میں پٹوار خانوں کی مبینہ غیر معینہ مدت تک کی تالہ بندی کر دی گئی، شہریوں کے جائیداد اور ریونیو معاملات شدید متاثر ہونے لگے۔ انسداد بدعنوانی کی کارروائیوں کے بعد پٹواریوں کی مبینہ عدم دستیابی، فردات، انتقالات، ملکیتی ریکارڈ اور دیگر امور میں تاخیر بڑھ گئی، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فیلڈ سٹاف کی حاضری یقینی بنانے کے دعوﺅں کے باوجود پٹوار خانوں کی بندش ختم نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے، ریونیو فیلڈ سٹاف کی اپنے سرکلوں کی موجودگی یقینی بنانے کے حوالے نہ تو کوئی پالیسی واضع کی جا رہی ہے اور ن ہی سرکاری ریکارڈ کی غیر قانونی تالہ بندی کے حوالے سے کرپٹ ریونیو فیلڈ سٹاف کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے افسران کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر یا ملازم کو رشوت کی مد میں عوام الناس کو لوٹنے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے گی، انسداد بدعنوانی لاہور ریجن بلا امتیاز کرپٹ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے ترجمان کے مطابق 12 پٹواری معطل اور ایک برطرف، تاہم غیر قانونی تالہ بندی پر مزید کارروائی سے متعلق واضح جواب نہ مل سکا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کی کارروائیوں کے بعد پٹوار خانوں کی مبینہ غیر معینہ مدت تک تالہ بندی اور ریونیو فیلڈ سٹاف کی عدم دستیابی کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا، ہفتوں گزرنے کے باوجود متعدد پٹوار خانوں کے فعال نہ ہونے سے لاہور کی دس تحصیلوں میں شامل سینکڑوں مواضعات کے شہریوں کو فردات کے اجراء، انتقالات کے اندراج و تصدیق، جائیدادوں کی منتقلی، ملکیتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال، کھاتہ جات و کھتونیوں کی تصدیق، گرداوری، موقع رپورٹس، فرد بدر، ریکارڈ کی درستی، وراثتی معاملات، عدالتی مقدمات سے متعلق ریونیو کارروائی اور دیگر ضروری امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں اگر ریونیو فیلڈ سٹاف اپنے سرکلوں میں دستیاب نہیں تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو بلا تعطل ریونیو خدمات کی فراہمی کیلئے فوری متبادل انتظامات کرے، تاہم موجودہ صورتحال میں پٹوار خانوں کی مبینہ تالہ بندی ختم کرانے اور سرکاری ریکارڈ تک شہریوں کی رسائی یقینی بنانے کے حوالے سے موثر عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے، دوسری جانب محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر یا ملازم کو رشوت کے ذریعے عوام الناس کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انسداد بدعنوانی لاہور ریجن بلاامتیاز بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، ذرائع کے مطابق پٹوار خانوں کی طویل بندش سے ایسے شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں جنہیں اپنی جائیدادوں کی خرید و فروخت، انتقال، وراثتی اندراج، عدالتی مقدمات یا دیگر قانونی معاملات کیلئے ریونیو ریکارڈ اور متعلقہ فیلڈ رپورٹ درکار ہوتی ہے، بعض معاملات میں معمول کی کارروائی میں تاخیر کے باعث شہریوں کو بار بار متعلقہ دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں جبکہ جائیدادوں کی منتقلی اور اس سے وابستہ سرکاری فیسوں و دیگر محصولات کی وصولی میں تاخیر سے سرکاری آمدن پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اگرچہ اراضی ریکارڈ کی متعدد خدمات کمپیوٹرائزڈ نظام اور اراضی ریکارڈ مراکز کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں تاہم فیلڈ ریکارڈ، موقع کی صورتحال، انتقالات کی تصدیق، ریکارڈ کی درستی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق کئی معاملات میں متعلقہ ریونیو فیلڈ سٹاف اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی اہمیت برقرار ہے، عوامی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر کرپشن کے خلاف کارروائیوں کے باعث بعض پٹواری دفاتر میں حاضری سے گریز کر رہے ہیں تو سرکاری مشینری کو ایک طرف بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی اور دوسری طرف عام سائلین کے جائز ریونیو معاملات کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے بیک وقت موثر اقدامات کرنے چاہئیں، شہری حلقوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید، ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاہور حافظ کریم داد چغتائی سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور کے تمام پٹوار خانوں کی فوری نگرانی اور معائنہ کرتے ہوئے سرکاری ریکارڈ کی دستیابی، ریونیو فیلڈ سٹاف کی اپنے متعلقہ سرکلوں میں موجودگی اور شہریوں کو مقررہ مدت کے اندر فردات، انتقالات، جائیدادوں کی منتقلی اور دیگر ریونیو خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، سرکاری دفاتر یا ریکارڈ کی غیر مجاز تالہ بندی کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انسداد بدعنوانی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی بروقت اور بلا رکاوٹ ریلیف مل سکے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) ڈپٹی کمشنر لاہور کے ترجمان حارث علی سلہری کے مطابق کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت لاہور میں کرپشن میں ملوث 12 پٹواریوں کو معطل جبکہ ایک پٹواری کو ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہے اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پٹواریوں کی حاضری یقینی بنائی جائے جبکہ غیر حاضر رہنے والے پٹواریوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاہم جب ترجمان سے یہ دریافت کیا گیا کہ لاہور کی 10 تحصیلوں میں تعینات اسسٹنٹ کمشنرز نے پٹوار خانوں کی مبینہ غیر قانونی تالہ بندی برقرار رہنے پر اب تک کتنے ریونیو فیلڈ اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے اور کتنے پٹوار خانوں کو عملی طور پر کھلوایا گیا ہے تو ترجمان کی جانب سے کوئی واضح وضاحت یا تفصیلی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے گئے، ترجمان حارث علی سلہری اگر پٹوار خانوں کو مبینہ طور پر تالہ بندی کرنے والے ریونیو سٹاف کے خلاف کارروائی کے حوالے کوئی اعدادوشمار پیش کرنا چاہیں تو روزنامہ مشرق میں ان کی وضاحت اور تفصیلی اعدادوشمار کو من و عن شائع کیا جائیگا۔