محکمہ اوقاف، 8776 ایکڑ سے زائد جائیدادوں پر 8295 افراد قابض

لاہور(قاضی ندیم اقبال)حکومت پنجاب کے خود مختار ادارے اوقاف ومذہبی امور پنجاب کے زیر انتظام وقف رقبہ اور املاک کی بابت رپورٹ تیار۔ اسٹیٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ صوبائی حکومت کے روبرو پیش کر دی گئی۔رپورٹ میں وقف جائیدادوں کی مجموعی تعداد، مالیت ،قابضین کی تعداد، ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں، کے علاوہ قابضین کو کرایہ دار بنانے کے حوالے سے پالیسی کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔لاہور سمیت صوبہ بھر میں محکمہ اوقاف پنجاب کی تحویل میں مجموعی طور پر 74ہزار964ایکڑ وقف رقبہ موجود ہے جس میں 25ہزار307 ایکڑ زرعی رقبہ ، 8ہزار431 ایکڑ دریائی رقبہ ، 6ہزار164ایکڑ بنجر رقبہ، جبکہ 30ہزار206ایکڑپہاڑی و ریتلا رقبہ شامل ہے۔ محکمہ کے زیر انتظام 1700ایکڑ پر قبرستان، 2224ایکڑ پر دربار و مساجد، 932ایکڑ رقبہ پر دوکانات و مکانات موجود ہیں۔صوبہ بھر میں محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر انتظام 1382جائیدادیں ہیں جن میں 548دربار، 437 مساجد موجود ہیں جبکہ دیگر397 جائیدادیں جن میں (عید گاہ، جنازگاہ، آمدہ انڈیا پراپرٹیز، قبرستان، وغیرہ ) شامل ہیں۔صوبہ بھر میں محکمہ اوقاف کے زیر تحویل جائندادوں کی مالیت اربوں روپے ہے۔محکمہ اوقاف پنجاب کی 156 وقف جائیدادوں کے 8ہزار776 ایکڑ4کنال7مرلے رقبہ پر8ہزار295 لوگ ناجائز قابض ہیں۔جن کے خلاف پنجاب وقف آرڈی نینس1979 کی شق نمبر8اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔وقف اراضی پر لوگ محکمانہ نوٹیفیکیشن سے قبل کے قابض ہیں۔اس وقت ان لوگوں کا کرایہ نہ لگایا گیا تھا جس وجہ سے یہ لوگ آج بھی وقف پراپرٹی پر بغیر کرایہ کے قابض ہیں۔زیر قبضہ وقف رقبہ کو کرایہ لگانے کی پالیسی مرتب کی جا رہی ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو کرایہ دار بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ وقف رقبہ پر سرکاری ادارہ جات بھی قائم ہیں، جو محکمانہ نوٹیفیکیشن سے قبل کے بھی ہیں اور بعد کے بھی ہیں۔ان کے بارے میں معاملہ زیر کارروائی ہے تاکہ ان کو بھی کرایہ داری کے نیٹ میں لا کر ریگولر کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق کل ناجائز رقبہ میں سے 6ہزار398 ایکڑ5مرلے رقبہ زیر مقدمہ ہے، ان مقدمات کو ختم کرنے کیلئے منیجران اوقاف کی جانب سے مختلف عدالتوں میں محکمانہ پیروی کی جا رہی ہے۔کل زیر ناجائز قبضہ میں سے 4ہزار513 ایکڑ وقف رقبہ دربار حضرت شاہ صادق نہنگ سے ملحقہ ہے اور اس سے متعلق کیس فیڈرل لینڈ کمشن اسلام آباد میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔