سوئی گیس کی غیراعلانیہ بندش، کم پریشر سے گھریلو صارفین، کاروبار بری طرح متاثر

لاہور (نعیم جاوید) شہر میں سوئی گیس کی مسلسل بندش اور کم پریشر کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے خصوصاً گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ گیس کی عدم دستیابی کی بنیادی وجہ طلب اور رسد میں واضح فرق ہے، جہاں سردیوں کے سیزن میں طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ دستیاب گیس کی مقدار محدود رہتی ہے۔محکمہ سوئی گیس کے حکام کے مطابق شہر میں یومیہ گیس کی طلب تقریباً 250 سے 300 ملین مکعب فٹ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ رسد محض 180 سے 200 ملین مکعب فٹ کے درمیان رہتی ہے، جس کے باعث 70 سے 100 ملین مکعب فٹ تک کا شارٹ فال پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں دور دراز علاقوں اور لائن کے آخری سروں پر رہنے والے صارفین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ گیس کے کم پریشر کی ایک بڑی وجہ غیر قانونی کمپریسرز اور سکشن پمپس کا استعمال بھی ہے، جو بعض صارفین اپنی گھریلو لائنوں پر نصب کر لیتے ہیں۔ ان مشینوں کے استعمال سے نہ صرف گیس کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے بلکہ پورے علاقے کا پریشر بھی متاثر ہوتا ہے۔اس حوالے سے محکمہ سوئی گیس نے شہر بھر میں خصوصی کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ ترجمان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران سینکڑوں مقامات پر کارروائیاں کی گئیں، جس میں متعدد غیر قانونی کمپریسرز ضبط کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ اب تک تقریباً 350 سے زائد صارفین کے خلاف چالان کیے جا چکے ہیں جبکہ 200 سے زائد افراد کو جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ بعض سنگین خلاف ورزیوں پر کنکشن منقطع کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔محکمہ کے مطابق گیس کی چوری اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں چیکنگ کر رہی ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی آلات کے استعمال سے گریز کریں اور گیس کے ضیاع کو کم سے کم کریں تاکہ تمام صارفین کو مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل دورانئے کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے باعث گھریلو نظام زندگی شدید متاثر ہو رہا ہے اور متبادل ایندھن کے استعمال سے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔