اسلام آباد،تہران،واشنگٹن:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)پاکستان کی ثالثی میں امریکہ،ایران تاریخ ساز امن مذاکرات،مستقل جنگ بندی کیلئے مثبت پیشرفت،دونوں ممالک کے حکام نے مطالبات پر مبنی فہرستیں ایک دوسرے کو تھما دیں۔
پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے نمائندے ایک دہائی بعد براہ راست آمنے سامنے بیٹھے،اسلام آباد میں ہونیوالے تاریخ ساز امن مذاکرات میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف ، جیرڈ کشنر،ایرانی سپیکر باقر قالیباف،وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق طویل جاری رہنے والی بیٹھک مثبت ،ماحول خوشگوار رہا،دونوں جانب سے مطالبات پر مبنی فہرستیں ایک دوسرے کے حوالے کی گئیں۔
ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اسلام آباد مذاکرات کیلئے اچھی ٹیم بھیجی ،ڈیل اچھی ہوگی ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں،آبنائے ہرمز جلد مکمل کھل جائے گی،کسی بیک پلان کی ضرورت نہیں۔
دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو حکومت ہر حال میں اپنے عوام کیساتھ کھڑی ہے،اسلام آباد مذاکرات میں مذاکراتی وفد نے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا،عوام کی خدمت کا مشن کسی صورت نہیں رکے گا۔
ادھر سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا امریکہ نے قطر و دیگر غیر ملکی بینکوں میں موجود منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کرلیا ، اثاثوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی یقینی فراہمی سے براہ راست منسلک کیا گیا ۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکہ،ایران تاریخ ساز امن مذاکرات،طویل بیٹھک


















