اسلام آباد:(بیورورپورٹ)قومی اسمبلی نے سانحہ پمز پر متفقہ قرارداد اور خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کرلی،قرارداد میں کہا گیا سانحہ پمز دلخراش واقعہ،سب کے دل رنجیدہ ہیں،ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت سزا دی جائے۔
وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں،14بچوں کی اموات کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی،فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہوں گے،سانحہ کے ذمہ دار کسی ایک آدمی کو نہیں چھوڑا جائے گا،سینٹ ،قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، ٹائم بانڈ نہ کریں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاتفصیلی رپورٹ 7روز میں تیار ہوگی پھرضروری اقدامات کیے جائیں گے،معاملے پر سیاست کی بجائے ٹھوس تجاویز دینی چاہئیں۔
خواجہ آصف نے کہاپمز سانحہ انتہائی دلخراش واقعہ ،سب کے دل رنجیدہ ہیں،متاثرہ خاندانوں کو 50، 50 لاکھ روپے دئیے جائیں گے تاہم معاوضہ جانی نقصان کا متبادل نہیں ہوسکتا،ذمہ داروں کو سزا،سانحہ کی تحقیقات اوپن ہونی چاہئیں۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا سانحہ پمز پر پوری قوم افسردہ ہے، مسئلے کے حل کی طرف جانا چاہیے، نوزائیدہ بچے کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، نرسری میں آگ لگی مگر ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کیسے لگی،کہا گیا بچے چوری ہونے سے بچانے کےلئے تالے لگائے گئے، وزیراعظم کی کمیٹیاں اپنی جگہ مگر پارلیمانی کمیٹی سپیکر کی سربراہی میں بنائی جائے، پارلیمانی کمیٹی حقائق تلاش کرے۔
اسد قیصر نے کہا سانحہ پمز پر دل دکھی،سوچیں والدین کس کرب سے گزرے ، وزیر صحت کے پاس تو رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا،وزیر صحت ہی نہیں وزیراعظم کو بھی استعفیٰ دینا چاہیے،شہباز سپیڈ بھی بے نقاب ہوگئی۔
ادھر سینٹ نے بھی سانحہ پمز کی تحقیقات کےلئے خصوصی کمیٹی کی تحریک منظور کرلی، علی ظفر نے کہا معاملے پر سینٹ کمیٹی بنائی جائے، سربراہی اپوزیشن کا کوئی رکن کرے، کمیٹی کو اختیار دیا جائے کسی بھی ادارے کو اپنی مدد کےلئے بلا سکے،حکومتی کمیٹیوں پر عوام کو یقین نہیں۔
پرویز رشید نے کہا پمز سانحہ بہت بڑا المیہ، اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی لگائی جائے، اقدام سے سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں بہتری آئے گی، قانون بنایا جائے سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ، کوئی جج ، کوئی بیوروکریٹ ہو،نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان بلیدی نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا20ہزار ارب کا قومی بجٹ تھا لیکن پمز ،4صوبے نہیں چلا سکتے، 25بنا دئیے تو کیا حشر ہوگا؟۔
فلک ناز چترالی نے کہا وزیر صحت سینٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، شرم سے ڈوب مرنا چاہیے،واقعہ کے دن پمز گئیں تو سکیورٹی گارڈز نے دھکے دے کر باہر نکال دیا،بچے شاپنگ بیگ میں والدین کو دئیے گئے اور کہا گیا کسی کو بتانا نہیں،اسلام آباد میں 2ہسپتال سنبھالے نہیں جاتے اور اچھل اچھل کر کہتے ہیں نئے صوبے بنائیں گے۔
شیری رحمن نے کہا سب سے زیادہ عوام کا خادم وزیر ہوتا ، ہم عوام کے نوکر ہیں اور عوام شہنشاہیوں سے تھک چکے،سہولت چاہیے ، لوگ ایوانوں سے ناامید ،سانحہ پر تحقیقات کیلئے ہاﺅس کمیٹی بنائی جائے،تحقیقات نہ ہوئیں تو استعفے مانگیں گے،14بچوں کی مائیں رو رہی ہیں، ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے۔
وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا خود کو احتساب کےلئے پیش کردیا،ملکی نظام گل سڑ گیا، روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں، آئیں مل بیٹھ کر بچائیں،ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، کوئی بھی ایم این اے سینیٹر پھر فون نہ کریں بندے کو کیوں ہٹایا، سب کا بندہ لگا ہوا ہے ادھر۔
سانحہ پمز کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے،قومی اسمبلی میں قرارداد منظور


















