لاہور (مرزا ندیم بیگ) لاہور میں خواتین اور بچوں کیخلاف جنسی جرائم کے واقعات میں رواں سال گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، پولیس ریکارڈ کے مطابق سال 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران شہر میں زیادتی کے 498 مقدمات جبکہ اجتماعی زیادتی کے 36 مقدمات درج ہوئے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں زیادتی کے 413 اور اجتماعی زیادتی کے 26 مقدمات درج ہوئے تھے، یوں زیادتی کے مقدمات میں تقریباً 20 فیصد جبکہ اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں تقریباً 38 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور کے مختلف ڈویژنوں میں بھی زیادتی کے مقدمات کی صورتحال مختلف رہی۔ سٹی ڈویژن میں گزشتہ سال کے 36 مقدمات کے مقابلے میں رواں سال 56 مقدمات درج ہوئے، صدر ڈویژن میں یہ تعداد 98 سے بڑھ کر 132، جبکہ اقبال ٹاون ڈویژن میں 46 سے بڑھ کر 80 ہو گئی۔ ماڈل ٹاون ڈویژن میں گزشتہ اور رواں سال پہلے آٹھ ماہ کے دوران زیادتی کے 98، 98 مقدمات رپورٹ ہوئے۔اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں بھی بعض ڈویژنوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کینٹ ڈویژن میں ایسے مقدمات کی تعداد پانچ سے بڑھ کر نو، ماڈل ٹاون میں پانچ سے بڑھ کر 10، سول لائنز میں دو سے بڑھ کر تین، اقبال ٹاون میں چار سے بڑھ کر چھ جبکہ سٹی ڈویژن میں ایک سے بڑھ کر دو ہو گئی۔لاہور پولیس کے مطابق خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے مقدمات میں تفتیش کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ حالیہ بریفنگ میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور ایم نوید نے بتایا کہ رواں سال خواتین پر جنسی حملوں سے متعلق 339 مقدمات ٹریس کیے گئے اور ان میں 416 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح 639 ریپ کیسز، جن میں 67 اجتماعی زیادتی کے مقدمات شامل تھے، ٹریس کرکے ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ جنسی زیادتی کے 476 مقدمات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔پولیس حکام کے مطابق مقدمات کی تفتیش میں فرانزک شواہد، جائے وقوعہ سے ثبوت اکٹھے کرنے، انہیں محفوظ بنانے اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بروقت بھجوانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عدالتوں میں مقدمات کو موثر انداز میں ثابت کیا جا سکے۔ رواں سال لاہور انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد چالان عدالتوں میں جمع کرائے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔لاہور پولیس کے مطابق خواتین کو فوری قانونی معاونت اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ رواں سال اس مرکز کو 68 ہزار 303 سے زائد کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 64 ہزار سے زائد شکایات پر کارروائی مکمل کی گئی، جبکہ 493 درخواستوں پر انکوائری جاری تھی۔ خواتین کی شکایات پر مختلف نوعیت کے 1109 مقدمات بھی درج کیے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور شکایات کے اندراج سے لے کر تفتیش اور چالان تک تمام مراحل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔آئی جی پنجاب عبد الکریم نے رواں سال لاہور پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام کے دوران بتایا تھا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے تقریباً 80 فیصد واقعات میں ملوث افراد متاثرین کے رشتہ دار یا جاننے والے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایسے جرائم کی روک تھام اور فوری کارروائی کیلئے جدید پولیسنگ نظام، سیف سٹی کیمروں، ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشنز اور بچوں کے تحفظ کے مراکز سمیت مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔پولیس حکام کے مطابق خواتین، بچوں، ہراسمنٹ اور تشدد سے متعلق مقدمات کی تفتیش کو مزید مو¿ثر بنانے کیلئے انویسٹی گیشن ونگ میں جدید طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔ آئی جی پنجاب نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایسے مقدمات کے چالان بروقت مکمل کیے جائیں اور پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ کے درمیان رابطہ مزید مو¿ثر بنایا جائے تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں غیرضروری تاخیر کم ہو،پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں ایک طرف مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب پولیس نے بڑی تعداد میں مقدمات ٹریس کرکے ملزمان کی گرفتاریوں کا دعویٰ کیا ہے۔
لاہور میں خواتین اور بچوں کیخلاف جنسی جرائم کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ



















