لاہور(مرزا ندیم بیگ) چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج مالی بے ضابطگیوں کا سکینڈل، کیس اینٹی کرپشن کے سپرد، ایکسٹرنل آڈٹ شروع،چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج لاہور میں 22 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے سکینڈل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نامزد افسران، اہلکاروں اور ٹھیکیدار کے خلاف مزید کارروائی کیلئے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھجوایا جا چکا ہے، جبکہ سابق کمانڈنٹ ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ کے خلاف ریگولر محکمانہ انکوائری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوائے جانے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب اسکینڈل کی مالی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے ایکسٹرنل آڈٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے،ذرائع کے مطابق چوہنگ ٹریننگ کالج کے مالی معاملات میں بے ضابطگیوں کی ابتدائی نشاندہی اندرونی آڈٹ کے دوران ہوئی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی۔ اے آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس رانا معصوم کمیٹی کے رکن تھے۔ کمیٹی نے مختلف مالی کھاتوں، بلوں، خریداری، سٹاک اور دیگر معاملات کا جائزہ لے کر ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی،انکوائری رپورٹ کے مطابق سابق کمانڈنٹ ڈی آئی جی محبوب اسلم للہ کو او ایس ڈی بنایا جا چکا ہے جبکہ ڈی ایس پی شاہد جاوید کو معطل کیا گیا۔ رپورٹ میں اکاونٹنٹ اور دیگر افسران و اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ و فوجداری کارروائی کی سفارشات سامنے آئیں۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق چار انسپکٹرز، دو سب انسپکٹرز، اکاونٹنٹ اور ٹھیکیدار سمیت دیگر افراد کے خلاف کارروائی کیلئے کیس اینٹی کرپشن کو بھیجا گیا،ذرائع کے مطابق انکوائری میں ٹھیکیدار یاسر ایوب اور اکاونٹنٹ شہباز خالد کے خلاف مقدمہ درج کرنے جبکہ بعض دیگر افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔ تاہم دستیاب تازہ رپورٹس میں اینٹی کرپشن کی جانب سے مقدمہ درج ہونے، تفتیش مکمل ہونے یا حتمی چالان کی کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اس مرحلے پر فوجداری کارروائی کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا،دوسری جانب ایکسٹرنل آڈٹ کا باقاعدہ آغاز ستمبر 2026 میں ہونے کی اطلاع ہے۔ آڈٹ ٹیم نے ریکارڈ کے حصول کیلئے آئی جی پنجاب آفس سے متعلقہ تفصیلات طلب کی ہیں۔ انکوائری کمیٹی نے سابق کمانڈنٹ کے گزشتہ دو سال کے مالی معاملات کا بھی خصوصی آڈٹ کرانے کی سفارش کی تھی۔ اس سے قبل موجودہ کمانڈنٹ کی جانب سے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو خط لکھ کر گزشتہ چار مالی سال، یعنی 2021-22ءسے 2024-25ءتک کے معاملات کا دائرہ وسیع کرنے کی درخواست کی گئی تھی،اندرونی آڈٹ سے متعلق مئی 2026 کی رپورٹ میں جون 2025 سے فروری 2026 کے دوران مختلف اکاونٹس میں بے ضابطگیوں، ریکارڈ اور بلوں کی عدم دستیابی اور مبینہ طور پر پیپرا قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ بعد ازاں فیکٹ فائنڈنگ انکوائری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مجموعی مالیت 22 کروڑ روپے سے زائد قرار دی گئی،رپورٹ کے مطابق مالی معاملات میں ٹریننگ فیس، پیرا اور کسٹمز سے متعلق فنڈز، فوڈ و کینٹین آمدن، سٹیشنری، فرنیچر و مشینری، ٹرانسپورٹ اور عمارت سے متعلق اخراجات سمیت متعدد مدات کا جائزہ لیا گیا۔ ایک انکوائری رپورٹ میں بعض رقوم کے جعلی بلوں، مبینہ فرضی اندراجات اور کاغذی کارروائی کے ذریعے ادائیگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسٹرنل آڈٹ مکمل ہونے کے بعد مالی نقصان کی حتمی رقم، ذمہ دار افسران کا تعین اور ریکوری کی صورتحال مزید واضح ہو گی۔ فی الحال دستیاب تازہ معلومات میں کسی ذمہ دار افسر یا اہلکار سے مخصوص رقم کی ریکوری مکمل ہونے کا مستند سرکاری ریکارڈ سامنے نہیں آیا، جبکہ سابق کمانڈنٹ کے خلاف محکمانہ کارروائی اور اینٹی کرپشن کیس الگ الگ قانونی و انتظامی مراحل میں ہیں۔پنجاب پولیس کے ٹریننگ برانچ کے سرکاری تعارف کے مطابق پولیس ٹریننگ اداروں کی نگرانی، رہنمائی، انتظامی کنٹرول اور تربیتی معاملات ٹریننگ برانچ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، اسلئے سکینڈل کے بعد مالی معاملات، ٹینڈرز اور ریکارڈ کے نظام کو مزید مو¿ثر بنانے کے اقدامات بھی اہم قرار دیے جا رہے ہیں
چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج مالی بے ضابطگیوں کا سکینڈل، تحقیقات اینٹی کرپشن کے سپرد



















