پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، حکومت سنجیدہ نہ ہوئی تو اسلام آباد مارچ کرینگے، نعیم الرحمن


کراچی :(بیورورپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک پر ایک مخصوص طبقے کا قبضہ ہے، حکمران طبقہ بیٹھ کر قوم کی تقدیر کے فیصلے کرتا ہے جبکہ مخصوص طبقے کو ہر سطح پر مراعات اور فوائد دئیے جارہے ہیں، جماعت اسلامی اشرافیہ کے قبضے سے نجات اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے، دھرنے عوام کے تحفظ اور ان کے مستقبل کے لیے ہیں، ان کا کوئی ذاتی یا سیاسی ایجنڈا نہیں۔

کراچی میں کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا اگر دھرنا کمزور یا ناکام ہوا تو اس کا فائدہ صرف اشرافیہ کو ہوگا، اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر عوامی مطالبات پر جماعت اسلامی کی تحریک کا ساتھ دیں،مذاکرات کے نتائج دیکھنے کے بعد اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہ ہوئی تو اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے،11 ستمبر کو گوجرانوالہ میں بڑا جلسہ عام جبکہ 12 ستمبر کو اسلام آباد میں خواتین کا بڑا جلسہ ہوگا۔ حکومت نے جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے، ہم نے واضح کیا ہے کہ عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز بڑا مسئلہ ہیں، پٹرولیم لیوی کا عالمی منڈی کی قیمتوں سے تعلق نہیں بلکہ یہ حکومتی نااہلی اور غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جماعت اسلامی نے لیوی ختم کرنے کے لیے حکومت کو تجاویز دی ہیں اور تکنیکی کمیٹی نے اپنی سفارشات بھی پیش کردی ہیں۔ حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوچکا ہے، لیوی کے خاتمے کے لیے 6،7 اہم نکات پیش کیے گئے ۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے ایک سال میں عوام سے 1567 ارب روپے پٹرولیم لیوی وصول کی، عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے ساتھ مزید ٹیکس وصول کرنا ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا معاملہ جماعت اسلامی یا ان کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کا مسئلہ ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت ریلیف نہیں دے سکتی تو عوام کو مزید تقسیم نہ کرے، عوامی مسائل حل کیے بغیر نئے تنازعات کھڑے کرنا مناسب نہیں۔ ملک میں آئین موجود ہے، تمام معاملات آئین کے مطابق حل کیے جائیں۔