رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم میں ہزاروں غیرمنظور شدہ پلاٹوں کی خریدوفروخت

لاہور (میاں ذیشان) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ اور نجی ہاﺅسنگ سکیموں سے متعلق قوانین و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے روڈا کے بعض افسران کی مبینہ چشم پوشی اور الرحیم گارڈن فیز فائیو المعروف رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے مالکان و انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے سینکڑوں کنال رقبے پر ہزاروں غیر منظور شدہ پلاٹوں کی کٹنگ اور خرید و فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کو غیر قانونی قرار دے کر شہریوں کو اس میں سرمایہ کاری، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور تشہیر سے باز رہنے کا باقاعدہ انتباہ جاری کر چکی ہے، اس کے باوجود مبینہ طور پر سکیم کی تشہیر، بکنگ، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور غیر منظور شدہ ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں، جس نے نہ صرف سکیم انتظامیہ کے طرز عمل بلکہ متعلقہ افسران کی نگرانی، شہریوں کے مفادات کے تحفظ، عملدرآمد، قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی اور قوانین کے نفاذ پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پارک، قبرستان، مسجد، اور پبلک یوٹیلیٹی کیلئے مختص رقبہ پر بھی کمی کرتے ہوئے پلاٹوں کو فروخت کر کے مکانات تعمیر کروا دئیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم، تھہری روڈ، موضع ہانڈو اور تیج گڑھ تحصیل شالیمار ضلع لاہور کو غیر قانونی رہائشی سکیم قرار دیکر عوام الناس کو اس میں پلاٹوں کی خرید و فروخت، تشہیر اور سرمایہ کاری سے گریز کی واضح ہدایت جاری کیے جانے کے باوجود سوسائٹی انتظامیہ اور مالکان کی جانب سے مبینہ طور پر تشہیری سرگرمیوں، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور غیر منظور شدہ تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے الزامات نے شہریوں کے مفادات کے تحفظ اور متعلقہ قوانین کے نفاذ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر بھی رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کو غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیم کے حوالے سے نوٹیفکیشن میں شامل کیا گیا ہے۔ روڈا کی طرف سے جاری کردہ اشتہار میں بھی واضح طور پر شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بغیر منظوری رہائشی سکیم کی تشہیر اور پلاٹوں کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے اور عوام کو ایسی سکیموں کے مالکان و منتظمین سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود اگر رائل انکلیو انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹنگ، بکنگ، پلاٹوں کی خرید و فروخت یا ترقیاتی کام جاری رکھے گئے ہیں تو یہ محض انتظامی ہدایت کی خلاف ورزی نہیں بلکہ متعلقہ قانونی ضابطوں کی ممکنہ خلاف ورزی بھی بنتی ہے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2020 کے سیکشن 6 کے تحت اتھارٹی کو ماسٹر پلان، شہری منصوبہ بندی، زمین کے استعمال اور ہاﺅسنگ سے متعلق قواعد و ضوابط کے نفاذ کا اختیار حاصل ہے جبکہ سیکشن 16 کے تحت ہاﺅسنگ سکیم کی منظوری مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے اور سیکشن 18(3) کے تحت ہر شخص ماسٹر پلان، زمین کے استعمال سے متعلق قواعد اور ہاﺅسنگ ضوابط کی پابندی کا پابند ہے جبکہ سیکشن 18(4) اتھارٹی کو خلاف ورزی کی صورت میں جائیداد کی منتقلی روکنے، فردِ ملکیت، رجسٹری یا انتقال پر پابندی عائد کرانے اور متعلقہ سرکاری اداروں کو خدمات روکنے کی ہدایت دینے کا اختیار بھی دیتی ہے۔ مذکورہ ایکٹ کے سکیشن 40 کے تحت ایسی خلاف ورزی جس کیلئے کوئی مخصوص سزا مقرر نہ ہو، ایک سال تک قید یا دو لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں کی سزا کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ سیکشن 41 کے تحت شیڈول میں درج جرائم پر نوعیت کے مطابق تین سے سات سال تک قید، جرمانہ اور خلاف ورزی جاری رکھنے کی صورت میں یومیہ اضافی جرمانے کی گنجائش موجود ہے، سیکشن 46 کے تحت غیر قانونی طور پر تعمیر یا استعمال ہونے والی عمارت، ڈھانچے یا ترقیاتی کام کو ہٹانے، مسمار کرنے، تبدیل کرنے یا زمین کو سربمہر کرنے اور اخراجات ذمہ دار شخص سے وصول کرنے کا اختیار بھی اتھارٹی کو حاصل ہے۔ دوسری جانب نجی ہاﺅسنگ سکیموں سے متعلق ضوابط بھی اس معاملے میں انتہائی واضح ہیں، پنجاب ڈویلپمنٹ اتھارٹیز پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم رولز 2021 کے رول 24(3) کے تحت مارکیٹنگ، تشہیر اور پلاٹوں کی فروخت صرف مقررہ منظوری فیس، جرمانے، منتقلی و رہن دستاویزات اور دیگر قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد کی جا سکتی ہے، جبکہ رول 46(1) واضح کرتا ہے کہ اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر پلاٹ یا رہائشی یونٹس کی فروخت کی تشہیر کسی بھی ذریعے سے نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نجی ہاﺅسنگ سکیم ضوابط میں رول 35 کے تحت غیر قانونی ترقیاتی کام جاری رکھنے یا بغیر منظوری ہاﺅسنگ سکیم تیار کرنے پر رقبے کے حساب سے روزانہ جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش موجود ہے، جس کے تحت 300 کنال تک کی سکیم پر پانچ ہزار روپے یومیہ، 300 سے زائد اور 500 کنال تک دس ہزار روپے یومیہ جبکہ 500 کنال سے زائد رقبے پر پندرہ ہزار روپے یومیہ جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، اور یہ جرمانہ خلاف ورزی جاری رہنے تک لاگو رہتا ہے۔ یوں رائل انکلیو انتظامیہ کی جانب سے، اگر سرکاری طور پر غیر قانونی قرار دئیے جانے کے بعد بھی، تشہیر، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور غیر منظور شدہ ترقیاتی کام جاری رکھنا ثابت ہو جائے تو متعلقہ قوانین کے تحت جرمانوں کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی، تعمیرات یا ترقیاتی کاموں کی بندش، زمین یا دفتر کو سربمہر کرنے، غیر قانونی ڈھانچے ہٹانے اور ضرورت پڑنے پر فوجداری کارروائی تک کی نوبت آ سکتی ہے، ایسے حالات میں شہریوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسی سکیم میں اپنی جمع پونجی لگا دیں جس کی قانونی حیثیت خود متعلقہ ترقیاتی اتھارٹی کے سرکاری ریکارڈ میں متنازع یا غیر قانونی قرار دی جا چکی ہو، جبکہ سکیم مالکان اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی تشہیر، بکنگ یا لین دین سے قبل تمام قانونی منظوریوں کا حصول یقینی بنائیں۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود مبینہ سرگرمیوں کا جاری رہنا اس امر کا متقاضی ہے کہ اتھارٹی صرف اشتہار یا انتباہ تک محدود رہنے کے بجائے ذمہ دار مالکان، منتظمین اور مارکیٹنگ سے وابستہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق موثر کارروائی کرے، غیر قانونی ترقیاتی کام فوری رکوائے، پلاٹوں کی منتقلی اور رجسٹری پر پابندی یقینی بنائے اور شہریوں کو ممکنہ مالی نقصان سے بچانے کیلئے عملی نفاذ کے اقدامات اٹھائے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کے حوالے سے سامنے آنے والے سنگین قانونی و انتظامی سوالات پر الرحیم گارڈن فیز فائیو رائل انکلیو کے ترجمان سید علی ارتضیٰ اور لیگل ایڈوائزر محمد طفیل سے باقاعدہ پیغامات کے ذریعے رابطہ کرکے سوسائٹی انتظامیہ کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم دونوں ذمہ داران کی جانب سے پیغامات پڑھ لئے جانے کے باوجود خبر کی اشاعت تک کوئی جواب، وضاحت یا مﺅقف سامنے نہیں آیا، جس سے سوسائٹی انتظامیہ کی جانب سے اہم عوامی نوعیت کے سوالات کا سامنا کرنے اور اپنی قانونی حیثیت واضح کرنے سے گریز کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس سے قبل بھی روزنامہ مشرق میں رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم سے متعلق شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے سوسائٹی مالکان اور انتظامیہ سے مﺅقف لینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اس وقت بھی مختلف مواقع پر سامنے آنے والے متضاد بیانات کے باوجود انتظامیہ یا مالکان کی جانب سے کوئی ایسا واضح، تحریری اور دستاویزی مﺅقف فراہم نہیں کیا جا سکا جس سے سکیم کی قانونی حیثیت، منظوریوں، پلاٹوں کی خرید و فروخت، ترقیاتی سرگرمیوں اور دیگر اعتراضات کی تسلی بخش وضاحت ہو سکتی۔ موجودہ معاملے میں بھی جب سوسائٹی کے ترجمان اور قانونی مشیر کو ان کے منصب کے مطابق براہ راست یہ موقع فراہم کیا گیا کہ وہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو کو غیر قانونی قرار دیے جانے، مبینہ طور پر جاری تشہیری سرگرمیوں، پلاٹوں کی خرید و فروخت، غیر منظور شدہ ترقیاتی کاموں، پارک، قبرستان، مسجد اور دیگر عوامی سہولیات کیلئے مختص رقبے سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور سوسائٹی کی قانونی منظوریوں کے بارے میں اپنا موقف پیش کریں، تو پیغامات پڑھنے کے باوجود خاموشی اختیار کرنا معاملے کو مزید مشکوک بناتا ہے اور انتظامیہ کے طرزِ عمل پر سوالات کو تقویت دیتا ہے۔ بالخصوص کسی ہاﺅسنگ سکیم کے ترجمان اور قانونی مشیر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مفاد سے متعلق الزامات یا قانونی اعتراضات کا حقائق، سرکاری دستاویزات اور متعلقہ منظوریوں کی بنیاد پر جواب دیں، مگر بارہا رابطوں کے باوجود مﺅقف فراہم نہ کرنا کم از کم اس تاثر کو ضرور جنم دیتا ہے کہ انتظامیہ اپنے خلاف اٹھنے والے بنیادی سوالات کا براہ راست سامنا کرنے سے گریزاں ہے۔ تاہم صحافتی تقاضوں کے تحت رائل انکلیو کے مالکان، انتظامیہ، ترجمان سید علی ارتضیٰ اور لیگل ایڈوائزر محمد طفیل کا مﺅقف شامل کرنا اب بھی ممکن ہے اور اگر وہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نوٹیفکیشن، ہاﺅسنگ سکیم کی منظوری، نقشے، ترقیاتی سرگرمیوں، پلاٹوں کی فروخت یا دیگر اعتراضات کے حوالے سے کوئی وضاحت، تردید یا دستاویزی ثبوت فراہم کرتے ہیں تو اسے مکمل طور پر خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے رائل انکلیو ہاﺅسنگ سکیم کو غیر قانونی قرار دیے جانے، اس کے باوجود مبینہ تشہیر، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور غیر منظور شدہ ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے سنگین سوالات پر روڈا کا موقف جاننے کیلئے متعلقہ معاملے سے براہ راست وابستہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیر افضل بٹ سے حوالے سے موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کے حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے اور ایسی تمام سکیموں کے خلاف ادارہ جاتی کارروائیاں جاری ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔