لاہور (نعیم جاوید) صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ مالی سال 2025-26ءکیلئے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ بجٹ خسارہ 6 ہزار 501 ارب روپے رہا۔ لاہور چیمبر کی تجویز ہے کہ آئندہ مالی سال میں بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً اسی سطح پر رکھا جائے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رہے اور غیرضروری اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔روز نامہ مشرق لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26ءکیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم لاہور چیمبر کی رائے ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس ہدف میں صرف 4 سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے اور نیا ٹیکس ہدف تقریباً 14 ہزار 700 سے 14 ہزار 800 ارب روپے رکھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکس اہداف میں غیر حقیقی اضافہ کیا گیا تو اس سے صنعت، تجارت اور معاشی سرگرمیاں مزید دباو¿ کا شکار ہوں گی۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز بالخصوص کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کاروباری لاگت میں اضافے اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف ایک ہزار 650 سے ایک ہزار 660 ارب روپے تک محدود رکھا جائے جبکہ سیلز ٹیکس کا ہدف زیادہ سے زیادہ 4 ہزار 950 سے 4 ہزار 980 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف 920 سے 930 ارب روپے تک رکھا جائے تاکہ کاروبار اور عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26ءکیلئے انکم ٹیکس کا ہدف 6 ہزار 811 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن موجودہ ٹیکس دہندگان خصوصاً تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر براہِ راست ٹیکسوں میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں مناسب اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ دفاعی بجٹ میں 10 سے 12 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 2 ہزار 800 سے 2 ہزار 860 ارب روپے تک لے جایا جائے تاکہ قومی سلامتی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔انہوں نے وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے مختص ایک ہزار ارب روپے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی اخراجات بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لاہور چیمبر نے سفارش کی کہ آئندہ مالی سال میں PSDP کا حجم کم از کم ایک ہزار 200 سے ایک ہزار 300 ارب روپے تک بڑھایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور نجی شعبے کی سرگرمیاں فروغ پائیں۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ جاری اخراجات بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہیں جن میں قرضوں پر سود کی ادائیگی نمایاں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شرح سود میں مزید کمی کی جائے اور مہنگے داخلی قرضوں کی ازسرِنو فنانسنگ پر غور کیا جائے تاکہ مالی خسارہ اور سودی بوجھ کم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے مختص فنڈز کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی فنی اور تکنیکی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ لاہور چیمبر نے تجویز دی کہ کم از کم 100 سے 150 ارب روپے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کیلئے مختص کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے کہا کہ ایندھن پر زیادہ ٹیکس نہ صرف عوام بلکہ صنعتوں کیلئے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ لاہور چیمبر نے مطالبہ کیا کہ مالی سال 2026-27ءمیں پٹرولیم لیوی کا ہدف کم کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور عام صارفین کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو آمدنی بڑھانے کیلئے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہئیں تاکہ ایندھن پر انحصار کم ہو اور معیشت پر اضافی دباو نہ پڑے۔
ٹیکس اہداف میں غیر حقیقی اضافہ ہوا تو معاشی سرگرمیاں مزید دباو کا شکار ہونگی:صدر لاہور چیمبر


















