اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا،پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں ، انرجی منصوبوں کیلئے 135 ارب، واٹر ریسورسز کیلئے 140 ارب مختص کرنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، احسن اقبال نے سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ترقیاتی بجٹ 8 سال سے جمود کا شکار ، صوبے امیر ہوگئے ، وفاق کے پاس فنڈز ہی نہیں،وسائل کی کمی کا سامنا ہے، منصوبوں پر فنڈنگ کی رفتار کم ہونے سے لاگت بڑھ گئی،غیراہم منصوبے جاری نہیں رکھ سکیں گے،ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کےلئے 10 ہزار ارب درکار ہیں، بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے، 2023 سے 2018 تک پاکستان میں ترقیاتی بجٹ میں نمایاں اضافہ ہوا، بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی منصوبے شروع کیے گئے، 2018 کے بعد ترقیاتی بجٹ میں مسلسل گراوٹ آئی جو تاحال جاری ہے،اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے کہاحکومت غیر ذمہ دارانہ گروتھ نہیں چاہتی، یہ عارضی طریقہ ہے جس میں درآمدات کھول دی جاتی ہیں، گزشتہ حکومت یہ فیصلہ کر چکی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے، جی ڈی پی کا حجم 408 ارب ڈالر سے بڑھ کر 452 ارب ڈالر ہوگیا، کسی بھی وقت گروتھ ریٹ 6 فیصد پر لے کر جا سکتے ہیں، ایکسپورٹ بیسڈ گروتھ چاہتے ہیں،برآمدات کم ہوں تو ترقی بھی سست ہوگی، ہم 2022 والی گروتھ نہیں چاہتے جس نے معاشی بنیادیں ہلادی تھیں، رواں سال وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126روپے رکھنے کا تخمینہ ہے، جی ڈی پی گروتھ 3.2 فیصد سے بڑھا کر 3.7 فیصد پر لے جائیں گے، رواں مالی سال انڈسٹری کی گروتھ 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، اس وقت ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالرز کے ہیں۔
صوبے امیر جبکہ وفاق کے پاس فنڈز نہیں: احسن اقبال


















