صنعتوں کی تباہی کی بنیادی وجہ فرسودہ سیاسی و معاشی نظام ہے: نعیم الرحمن

لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور صنعتوں کی تباہی کی بنیادی وجہ فرسودہ سیاسی و معاشی نظام ہے، جب تک سیاست اور سسٹم کو درست نہیں کیا جاتا، معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے صنعتکاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ جماعت اسلامی کی حکومت مخالف تحریک کا حصہ بنیں کیونکہ حکمران اشرافیہ عوام، صنعت اور کاروبار دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرول پر 120 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز کے ذریعے عوام کا استحصال کیا جارہا ہے، جبکہ آئی پی پیز، آر ایل این جی اور اشرافیہ کو نوازنے کیلئے قومی خزانہ لٹایا جا رہا ہے۔ عید کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا اور کامیاب ہڑتال کرائیں گے۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، صدر بزنس فورم مشتاق مانگٹ ، سیکریٹری اعجاز تنویر اور دیگر تاجر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔ معاون خصوصی امیر جماعت عمیر ادریس اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماع عام میں صنعتکاروں کو باقاعدہ موقع دیا کہ وہ اپنے مسائل قوم کے سامنے رکھ سکیں۔ جماعت اسلامی مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور غریب طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور جب تک صنعت کا پہیہ نہیں چلے گا غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبے سیاسی بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں جہاں عوام کو حق دینے کے بجائے خیرات دی جاتی ہے۔ پنجاب میں ترقی کے اشتہارات تو چل رہے ہیں لیکن ایک کروڑ سے زائد بچے آج بھی سکولوں سے باہر ہیں۔ پہلے 11 ہزار اور اب مزید 25 ہزار اسکول آوٹ سورس کیے جا رہے ہیں ،؟کالجز بند اور جامعات کو گرانٹس نہیں دی جا رہیں۔ حکومت کبھی لیپ ٹاپ اور کبھی ٹریکٹر اسکیموں کے ذریعے عوام کو بہلانے کی کوشش کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی شعبے میں پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے مگر موجودہ نظام انہیں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دے رہا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں ”کنسورشیم سیاست“ قائم ہے جس میں بیوروکریٹس، سرمایہ دار اور وڈیرے شامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت غریب طبقات کا استحصال کرتی ہے جبکہ افسر شاہی خود کو حاکم اور عوام کو محکوم سمجھتی ہے۔ آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں آگے بڑھنے والوں کو ہی مواقع ملتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے حالات جاہلوں نے نہیں بلکہ پڑھے لکھے طبقہ نے خراب کیے ہیں جو قوم کو مسلسل پیچھے دھکیل رہا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت اس نظام کو چیلنج کرنے کی ہے کیونکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے لاہور میں مجوزہ بلدیاتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں نو میئرز لانے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ اقتدار پر اجارہ داری برقرار رکھی جا سکے۔