لاہور (مشرق نیوز) پاکستانی کرکٹ کی پہچان سمجھی جانے والی فاسٹ بولنگ آج شدید تنزلی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ ماضی میں پاکستان کے فاسٹ بولرز اپنی سوئنگ، ریورس سوئنگ، رفتار اور جارحانہ انداز کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھے۔
دنیا بھر کے بلے باز سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، محمد آصف، عمر گل اور محمد عامر جیسے خطرناک فاسٹ بولرز کے سامنے کھیلنے سے گھبراتے تھے۔ وسیم اور وقار کی جوڑی نے کئی عالمی ریکارڈز قائم کئے جبکہ شعیب اختر نے اپنی برق رفتار بولنگ سے عالمی شہرت حاصل کی۔
عمر گل محدود اوورز کی کرکٹ میں ڈیتھ اوورز میں یارکرز کے بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔ اسکے برعکس آج کے بولرز آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے فاسٹ اٹیک کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حسن علی اور حارث روف جیسے باصلاحیت بولرز موجود ہونے کے باوجود پاکستان مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہا جس پر شائقین اور سابق کرکٹرز شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی پیس اٹیک کی اوسط 37.32 رہی، جو جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، بھارت، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ سمیت تقریباً تمام بڑی ٹیموں سے بدترین ہے۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش، زمبابوے اور افغانستان کے فاسٹ بولرز کی کارکردگی بھی پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک سے زیادہ بہتر ہے۔
جنوبی افریقہ کی اوسط 23.78 جبکہ آسٹریلیا کی 24.34 رہی جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے فاسٹ بولرز وکٹیں لینے میں نمایاں طور پر ناکام رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ زوال کی کئی وجوہات ہیں جن میں غیر معیاری ڈومیسٹک نظام، فٹنس مسائل، غیر مستقل سلیکشن، فاسٹ بولرز کے ورک لوڈ کا غلط استعمال اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ نہ اٹھانا شامل ہے۔
پاکستان میں ٹیلنٹ ہونے کے باوجود تسلسل اور پیشہ ورانہ ماحول کا فقدان نظر آتا ہے۔ دوسری جانب آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ جیسی ٹیمیں سپورٹس سائنس، ڈیٹا اینالیسز، خصوصی بولنگ کوچز اور مستقل پلاننگ کی مدد سے اپنے پیسرز کو مزید موثر بنا رہی ہیں۔
پاکستان کرکٹ کی پہچان فاسٹ بولنگ بدترین زوال کا شکار کیوں؟



















