لاہور:(اپنے رپورٹر سے) لاہور آرٹس کونسل الحمراءمیں منعقدہ فیض فیسٹیول کے تیسرے روز گہما گہمی، الحمراءکے مختلف ہالز اور کھلے مقامات پر صبح سے رات گئے تک ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری رہا، اہل قلم، فنکار، دانشور اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک رہی، فضا میں مکالمے کی سنجیدگی، شاعری کی لطافت اور ثقافتی رنگوں کی دلکشی نمایاں تھی۔
اختتامی روز مجموعی طور پر 15 متنوع سیشنز ہوئے جبکہ 14 کتب کی تقاریب رونمائی بھی ہوئیں، ہر نشست میں سنجیدہ مباحث اور بامقصد گفتگو نے سامعین کو متوجہ رکھا اور سوال و جواب کے سلسلے نے مکالمے کو مزید جاندار بنایا۔
نامور اداکاروں، آرٹسٹوں نے فن اور سماجی شعور کے باہمی تعلق پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تخلیق کار کی ذمہ داری معاشرتی آگہی کو فروغ دینا ہے، معروف صحافی حامد میر نے بدلتے حالات میں صحافت کی اہمیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیا،سینئر شاعر افتخار عارف اور ممتاز شاعرہ زہرا نگاہ نے فیض کے عہد، معنویت اور تسلسل پر گفتگو کی، نقاد ناصر عباس نیئر نے فیض کی شاعری کے فکری پہلووں کو عصر حاضر کے تناظر میں اجاگر کیا۔
فیض فیسٹیول :ثقافتی رنگوں کی دلکشی، 14 کتب کی تقاریب رونمائی



















