لاہور (میاں ذیشان) پنجاب میں محکمہ انسدادِ بدعنوانی کے افسران کی دوغلی پالیسی، نچلے درجے کے اہلکاران کے خلاف گرفتاریوں کا سلسلہ تیزی سے جاری، جبکہ گریڈ 19 کے افسران کے لئے ڈائریکٹر جنرل، گریڈ 20 کے لئے چیف سیکرٹری اور گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کیلئے وزیر اعلیٰ کی پیشگی تحریری اجازت کو بنیاد بنا کر کلین چٹ جاری کر دی گئی۔ محکمہ پولیس، بورڈ آف ریونیو، منصوبہ بندی و ترقی، ہاﺅسنگ، اربن ڈویلپمنٹ و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پولیس، لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ سمیت دیگر محکمہ جات کے سینکڑوں ملازمین کرپشن کسیز میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پنجاب بھر سے 4 سو سے زائد گریڈ 1 سے گریڈ 16 کے افسران کو بدعنوانی، رشوت، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل، اختیارات کے ناجائز استعمال، جعلسازی سمیت مبینہ ٹریپ ریڈ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے خلاف نمایاں کارروائی نہ ہونے اور حالیہ ٹریپ ریڈز پر اٹھنے والے مبینہ شکوک و شبہات کے باعث اینٹی کرپشن کی کرپشن فری پنجاب مہم کی شفافیت پر سوالات شدت اختیار کرگئے۔پنجاب کے درجنوں محکمہ جات اور اتھارٹیز میں نچلے گریڈ کے ملازمین نے محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے اس امتیازی سلوک پر قلم چھوڑ ہڑتال شروع کر دی ہے۔ محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے ترجمان سے جب موقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تمام افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں جبکہ اپر گریڈ کے افسران کے حوالے سے اعدادوشمار پوچھا گیا تو موصوف مکمل اعدادوشمار بتانے میں ناکام رہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی جانب سے کرپشن کے خلاف جاری کارروائیوں میں مبینہ دوغلی پالیسی اختیار کیے جانے کے الزامات سامنے آنے لگے ہیں، جہاں ایک جانب گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کے خلاف گرفتاریوں، مقدمات اور ٹریپ ریڈز کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے تو دوسری جانب گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے خلاف اسی نوعیت کی نمایاں کارروائی سامنے نہ آنے سے اینٹی کرپشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں، ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران پنجاب بھر میں گریڈ ایک سے 16 تک کے 400 سے زائد سرکاری ملازمین کو مبینہ بدعنوانی، رشوت ستانی، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل، اختیارات کے ناجائز استعمال، جعلسازی اور دیگر مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات میں ٹریپ ریڈز اور دیگر کارروائیوں کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے مقدمات درج کیے گئے، گرفتار ہونے والوں میں محکمہ پولیس، بورڈ آف ریونیو، منصوبہ بندی و ترقی، ہاﺅسنگ، اربن ڈویلپمنٹ و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ، زراعت، آبپاشی، خوراک، لائیو اسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ، جنگلات، جنگلی حیات و فشریز، ماحولیات، صنعت و تجارت، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سمیت دیگر سرکاری محکموں اور اتھارٹیز کے افسران و اہلکار شامل ہیں، تاہم دوسری جانب گریڈ 17 اور 18 کے افسران کے خلاف کارروائی کے مقابلے میں گریڈ 19، 20، 21 اور 22 کے افسران کے خلاف مبینہ طور پر انتہائی محدود یا کوئی نمایاں کارروائی سامنے نہ آنے پر ماتحت ملازمین میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے؛ اینٹی کرپشن کے موجودہ طریقہ کار کے تحت اعلیٰ گریڈ کے افسران کے خلاف کارروائی کیلئے مختلف سطحوں پر پیشگی منظوری کی شرائط کو بنیاد بناتے ہوئے بعض معاملات میں کارروائی آگے نہ بڑھنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث ماتحت ملازمین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بدعنوانی کے خلاف کارروائی بلاامتیاز ہے تو پھر اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کے خلاف بھی اسی رفتار سے انکوائریاں، مقدمات اور گرفتاریاں کیوں عمل میں نہیں لائی جا رہیں، ذرائع کے مطابق پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس 1961 اور پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 2014 کے تحت گریڈ 1 سے 22 تک سرکاری ملازمین و افسران کے خلاف کارروائی کا قانونی اختیار موجود ہے، تاہم مقدمہ درج کرنے، تفتیش اور گرفتاری کیلئے افسر کے عہدے اور گریڈ کے مطابق مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کا طریقہ کار مختلف ہے۔ گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی تحریری منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ گریڈ 17 اور 18 کے افسران کے معاملے میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن مجاز اتھارٹی ہوتا ہے۔ گریڈ 18 اور 19 کے افسران کی گرفتاری کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی پیشگی تحریری اجازت کا تقاضا کیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری، سربراہ منسلک محکمہ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور گریڈ 20 یا اس سے زائد کے افسر کی گرفتاری کیلئے چیف سیکرٹری پنجاب کی پیشگی اجازت ضروری ہے۔ بعض اعلیٰ عہدوں اور مقدمہ درج کرنے کے مراحل میں وزیراعلیٰ پنجاب کی پیشگی تحریری اجازت بھی قواعد کے تحت لازم قرار دی گئی ہے، اس لیے صرف گریڈ دیکھنے کے بجائے افسر کے عہدے اور متعلقہ قانونی شق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اگر کوئی سرکاری ملازم یا افسر باقاعدہ مجسٹریٹ کی نگرانی میں ٹریپ ریڈ کے دوران رشوت یا متعلقہ جرم میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہو تو معمول کی پیشگی اجازت کی شرط لاگو نہیں ہوتی اور کارروائی کے بعد متعلقہ اعلیٰ حکام کو فوری طور پر مطلع کیا جاتا ہے۔ جس کے باعث مبینہ طور پر متعدد اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی عملی مرحلے تک نہ پہنچنے کے باعث انہیں ریلیف مل رہا ہے، جبکہ نچلے گریڈ کے ملازمین براہ راست گرفتاری اور مقدمات کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ اس صورتحال نے محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی کرپشن فری پنجاب مہم کے یکساں اطلاق پر بھی سوالات پیدا کردیے ہیں اور پنجاب کے مختلف محکموں و اتھارٹیز میں نچلے گریڈ کے ملازمین کی جانب سے مبینہ امتیازی سلوک کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال شروع کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، ملازمین کا مﺅقف ہے کہ اگر بدعنوانی ایک جرم ہے تو اس کے خلاف کارروائی گریڈ اور عہدے سے بالاتر ہوکر ہونی چاہیے اور کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف شکایت موصول ہونے پر اس کی حیثیت اور عہدے کے مطابق قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے؛ دوسری جانب حالیہ دنوں میں محکمہ انسدادِ بدعنوانی پنجاب کی جانب سے کیے جانے والے متعدد ٹریپ ریڈز بھی بعض حلقوں کی جانب سے مبینہ طور پر شکوک و شبہات سے بھرپور قرار دیے جا رہے ہیں، جن میں کارروائی کے طریقہ کار، گرفتاریوں کے انتخاب، اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے اور نچلے ملازمین کو مسلسل ہدف بنائے جانے سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اگر محکمہ انسدادِ بدعنوانی پنجاب واقعی صوبے سے کرپشن کے خاتمے کیلئے بلاامتیاز کارروائی کا دعویٰ کرتا ہے تو گریڈ ایک سے 22 تک تمام سرکاری ملازمین اور افسران کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، انکوائریوں، مقدمات، گرفتاریوں اور کیسز کے انجام کی گریڈ وار تفصیلات سامنے لانا ہوں گی، بصورت دیگر نچلے گریڈ کے ملازمین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کے فقدان سے پیدا ہونے والے سوالات کرپشن فری پنجاب مہم کی شفافیت کو مسلسل متاثر کرتے رہیں گے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) محکمہ انسدادِ بدعنوانی پنجاب کے ترجمان عبدالواحد نے موقف اختیار کیا کہ بدعنوانی کے خلاف جاری مہم صرف نچلے گریڈ کے ملازمین تک محدود نہیں، بلکہ گریڈ 17، 18 اور 19 کے متعدد افسران کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، محکمہ کسی شخص کے گریڈ یا عہدے کو دیکھ کر کارروائی نہیں کرتا بلکہ شکایت موصول ہونے کے بعد قانونی تقاضوں کے مطابق انکوائری اور تفتیش کی جاتی ہے اور بدعنوانی ثابت ہونے پر بلاامتیاز متعلقہ شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں واسا ملتان کے ڈائریکٹر فنانس کو رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔ ٹریپ ریڈز کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ان کارروائیوں میں عموماً نچلے گریڈ کے ملازمین ہی رنگے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تاہم پولیس، واسا اور محکمہ ریونیو سمیت مختلف محکموں کے اعلیٰ گریڈ کے افسران کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ صرف نچلے گریڈ کے ملازمین کو کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو بھی سرکاری ملازم یا افسر بدعنوانی میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جب ترجمان سے روزنامہ مشرق کی جانب سے اپر کلاس افسران پر حالیہ دنوں مقدمات یا ٹریپ ریڈ کے اعدادوشمار کے بارے میں موقف طلب کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میںنے متعلقہ سیکشن کو ریکارڈ کے حوالے سے آگاہ کیا ہے لیکن اب تک ان کی طرف سے کوئی اعدادوشمار مجھے فراہم نہیںکئے گئے ہیں۔ جیسے ریکارڈ فراہم کیا جائیگا آپکو آگاہ کر دیا جائے۔ ترجمان ا س حوالے سے اپنا موقف یا وضاحت پیش کرنا چاہیں تو روزنامہ مشرق میں موقف اور وضاحت کو من و عن شائع کیا جائیگا۔
محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی دوغلی پالیسی، کرپشن پر نچلے درجے کے اہلکارگرفتار

















