روڈا افسران اور الرحیم گارڈن فیز V رائل انکلیو انتظامیہ کا گٹھ جوڑ بے نقاب

لاہور (میاںذیشان) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور الرحیم گارڈن فیز V رائل انکلیو انتظامیہ کا گٹھ جوڑ بے نقاب، پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم رولز کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے چشم پوشی شروع کر دی گئی۔ روڈا کے شعبہ بلڈنگ اینڈ کنٹرول کے افسران کی سوسائٹی مافیا کے خلاف کارروائی میں عدم دلچسپی کے باعث سینکڑوں متاثرین پلاٹوں کے حصول کیلئے خوار ہونے لگ گئے۔ ہاﺅسنگ سکیم میں غیر قانونی توسیع ، سرکاری نالوں کھالوں پر تعمیرات، رہن شدہ پلاٹوں کی فروخت، توسیع میں منظوری کے بغیر اشتہارات ، سائن بورڈز اور تشہیر، بغیر منظوری نقشہ تعمیراتی کاموں پر نہ تو کوئی شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سوسائٹی آفس کو سیل کیا گیا ہے۔نہ ہی عوامی اشتہار کے ذریعے سوسائٹی کو بلیک لسٹ کر کے انتظامیہ کو بھاری جرمانہ عائد کر کے اس فراڈ کو بے نقاب کیا تا کہ شہری اس دھوکہ دہی سے بچ سکیں۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر اتھارٹی کے کسی افسر کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال یا جان بوجھ کر قانونی تقاضے پورے نہ کئے جائیں تو ہیومن ریسورس مینوئل اور متعلقہ ڈسپلنری قواعد کے تحت محکمانہ کارروائی، معطلی، تنزلی، جبری ریٹائرمنٹ یا برطرفی جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں جبکہ سکیم مالکان کے خلاف نہ صرف جرمانہ اور تعمیرات مسماری بلکہ فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے، متاثرین نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او عمران امین سے کرپٹ افسران و ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کی استدعا کر دی۔ تفصیلات کے مطابق رائل انکلیو میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے روڈا کے شعبہ بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی نگرانی پر سنگین سوالات، غیر منظور شدہ سرگرمیوں کے خلاف قانونی اختیار رکھنے والے افسران کی مبینہ خاموشی نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دے دیا، سوسائٹی میں مبینہ غیر قانونی توسیع، سرکاری رقبے کی شمولیت، تعمیرات، تشہیر اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر افسران کے کردار کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔ الرحیم گارڈن فیز پانچ رائل انکلیو میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر منظور شدہ سرگرمیوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کا معاملہ اب صرف سوسائٹی انتظامیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذمہ دار افسران بھی سوالات کی زد میں آ گئے ہیں، شہریوں اور متاثرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ افسران کا کردار ریکارڈ کی بنیاد پر جانچا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ اگر رائل انکلیو میں مبینہ غیر قانونی توسیع، غیر منظور شدہ بلاکس، سرکاری نالوں و کھالوں یا دیگر سرکاری رقبے کی ممکنہ شمولیت، رہن شدہ پلاٹوں کی مبینہ فروخت، بغیر منظوری اشتہارات و سائن بورڈز، نقشے سے ہٹ کر تعمیرات اور پلاٹوں کی تشہیر و بکنگ کے معاملات موجود تھے تو متعلقہ افسران نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا اقدامات کیے، روڈا کی سرکاری قانونی دستاویزات میں تعمیر و ترقی اور نجی ہاﺅسنگ اسکیموں سے متعلق باقاعدہ ضوابط اور ملازمین کیلئے نفاذی طریقہ کار موجود ہونے کے باوجود کسی مبینہ خلاف ورزی پر بروقت کارروائی نہ ہونا اس امر کی جامع تحقیقات کا متقاضی ہے کہ کہیں نگرانی کے نظام میں دانستہ غفلت یا کسی نجی فریق کو غیر ضروری سہولت فراہم کرنے کا عنصر تو موجود نہیں، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ہاﺅسنگ منصوبے کے مختلف بلاکس کی منظوری، لے آﺅٹ پلان، زمین کی ملکیت، ترقیاتی سرگرمیوں، تشہیر، بکنگ اور فروخت کے قانونی مراحل پر سوالات موجود ہوں تو روڈا کے متعلقہ شعبے کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے اور صرف فائل پر کارروائی کے بجائے موقع پر معائنہ، خلاف ورزی کی نشاندہی، نوٹس اور قانونی نفاذ ضروری ہو جاتا ہے، لیکن رائل انکلیو کے حوالے سے یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا متعلقہ افسران نے موقع پر معائنے کئے، کیا کوئی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، کیا غیر قانونی تعمیرات یا سرگرمیوں کو روکا گیا، کیا سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا تھیں، اسی طرح جنرل بلاک، کراﺅن بلاک، لیک ماﺅنٹ بلاک، رائل انکلیو سی اور رائل انکلیو ڈی سمیت مختلف بلاکس کی منظوریوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کی مکمل فائل سامنے لا کر یہ جانچنے کی ضرورت ہے کہ کون سا بلاک کس مرحلے پر منظور ہوا، کس رقبے کی منظوری دی گئی اور موقع پر ہونے والی سرگرمیاں منظور شدہ نقشے سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں، دوسری جانب مبینہ سرکاری نالوں، کھالوں اور دیگر سرکاری رقبے کی ممکنہ شمولیت کے معاملے میں محکمہ مال کے خسرہ وار ریکارڈ، ملکیتی دستاویزات، روڈا کے منظور شدہ نقشوں اور موقع کی صورتحال کا مشترکہ معائنہ کرایا جانا چاہیے، جبکہ بجلی کی فراہمی کیلئے لیسکو سے ہونے والی خط و کتابت اور سیوریج کے مبینہ ناقص انتظامات کی بھی مکمل جانچ ضروری ہے، شہریوں کے مطابق اگر سیوریج کا پانی ملحقہ خالی اراضی میں چھوڑا جا رہا ہے تو اس سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کی ذمہ داری بھی طے کی جانی چاہیے، سڑکوں، گلیوں، پارکس، قبرستان اور عوامی سہولیات کیلئے مختص رقبے کے استعمال، ترقیاتی کاموں اور پلاٹوں کی تشہیر و فروخت کے قانونی جواز کی بھی جانچ ناگزیر قرار دی جا رہی ہے، متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو کہ متعلقہ افسران کو مبینہ خلاف ورزیوں کا علم تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے کارروائی نہیں کی تو معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں ذمہ داری، اختیارات کے استعمال اور ممکنہ محکمانہ مس کنڈکٹ کے پہلو بھی سامنے آئیں گے، اس لئے روڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ رائل انکلیو کی مکمل فائل، منظوریوں، نوٹسز، معائنہ رپورٹس، فائل نوٹنگ، اندرونی خط و کتابت، نقشہ جات، خسرہ وار زمین کے ریکارڈ اور متعلقہ افسران کی کارروائی کا جامع ریکارڈ طلب کرکے اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی افسر کی غفلت، اختیارات سے تجاوز یا کسی نجی فریق کو غیر قانونی سہولت فراہم کرنے کی تصدیق ہو تو روڈا کے مروجہ سروس قواعد اور متعلقہ قانونی ضوابط کے تحت بلاامتیاز محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک غیر منظور شدہ سرگرمیوں، نئی تعمیرات اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے قانون کے مطابق موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ اور روڈا کے نگرانی و نفاذی نظام کی شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں، سوسائٹی میں جاری ترقیاتی کاموں، پلاٹوں کی خرید و فروخت، تعمیرات اور انتظامی و تشہیری سرگرمیوں کے حوالے سے روزنامہ مشرق کی جانب سے مسلسل نشاندہی کے معاملے پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیر افضل بٹ کا طرز عمل بھی سوالیہ نشان بن گیا۔ متعلقہ شعبوں کے افسران کی ترجمانی کرنے والے شیر افضل بٹ نے مبینہ طور پر خبروں کی اشاعت رکوانے کیلئے اصرار کیا اور خبروں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت کارروائی سمیت سنگین نتائج کی بات کی، ان کی جانب سے مبینہ طور پر یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ اگر خبروں کی اشاعت بدستور جاری رہی تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ صحافی پر عائد ہوگی اور پیکا قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ متعلقہ افسر مبینہ طور پر ادارے کے موقف کی وضاحت کرنے کے بجائے صحافتی سوالات اور تنقیدی رپورٹنگ کو روکنے کیلئے دباﺅ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو سرکاری ترجمانی کے منصب کے تقاضوں، شفافیت اور صحافتی آزادی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دوسری جانب خود شیر افضل بٹ کی جانب سے قبل ازیں یہ موقف سامنے آ چکا ہے کہ رائل انکلیو کے حوالے سے ایک درجن سے زائد متاثرین کی درخواستیں روڈا کے پاس موجود ہیں، انہیں متعلقہ فائل کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور سوسائٹی انتظامیہ کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ جب تک تمام قانونی تقاضے اور قواعد و ضوابط مکمل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک نہ تو این او سی جاری کیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی ترقیاتی سرگرمی کی اجازت دی جائے گی، تاہم موقع پر موجود مبینہ زمینی صورتحال ان دعوﺅں سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث روڈا کے متعلقہ شعبوں کی نگرانی، عملدرآمد اور افسران کی کارکردگی پر مزید سوالات اٹھا رہی ہے،موقع پر جاری سرگرمیوں کے مطابق سوسائٹی میں پلاٹوں کی خرید و فروخت، تعمیراتی سرگرمیوں اور ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رہنے کے ساتھ ساتھ الرحیم گارڈن کا دفتر بھی سوسائٹی کے تشہیری، انتظامی اور دیگر معاملات کی نگرانی کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر روڈا کی جانب سے واقعی ترقیاتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی گئی اور این او سی جاری نہیں کیا گیا تو پھر مبینہ طور پر جاری تعمیرات، ترقیاتی کام، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور انتظامی و تشہیری سرگرمیوں کے خلاف عملی کارروائی کیوں نظر نہیں آ رہی، مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ متعلقہ افسر کی جانب سے ایک طرف متاثرین کی درخواستوں، قانونی تقاضے مکمل نہ ہونے اور این او سی جاری نہ کیے جانے کا مﺅقف اختیار کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق مبینہ طور پر مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں، ایسے میں شیر افضل بٹ کے کردار اور طرز ترجمانی کے حوالے سے یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ان کی ذمہ داری روڈا کے عوامی مفاد سے متعلق اقدامات، قانونی کارروائیوں اور ادارے کے مﺅقف کو شفاف انداز میں سامنے لانا ہے یا مبینہ طور پر خبروں کی اشاعت رکوانے اور صحافتی سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے پیکا ایکٹ اور دیگر قانونی کارروائیوں کا حوالہ دے کر دباﺅ ڈالنا، جس طرزِ عمل کو صحافتی حلقوں کی جانب سے سرکاری منصب کے ممکنہ غلط استعمال، نامناسب ترجمانی اور مبینہ مس کنڈکٹ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ روڈا اعلیٰ سطح پر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کرے کہ رائل انکلیو کے حوالے سے موجود شکایات، این او سی کی قانونی حیثیت، مبینہ ترقیاتی سرگرمیوں، پلاٹوں کی خرید و فروخت، تعمیرات اور تشہیری و انتظامی سرگرمیوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جائے کہ ادارے کا کوئی افسر صحافتی رپورٹنگ روکنے یا کسی صحافی کو مبینہ طور پر سنگین نتائج اور پیکا ایکٹ کی کارروائی کی دھمکی دینے کا مجاز ہے یا نہیں، کیونکہ اگر متعلقہ سوسائٹی کے خلاف واقعی قانونی کارروائی زیرِ عمل ہے تو اس کا جواب خبروں کو روکنے کے مطالبے کے بجائے شفاف سرکاری ریکارڈ، عملی کارروائی اور قابل تصدیق شواہد کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔