لاہور (اپنے نمائندے سے) ریلوے انتظامیہ اور کنٹریکٹر کی مبینہ ملی بھگت، پاکستان ریلوے کی طرف سے شالیمار ایکسپریس ٹرین کے روٹ کی تبدیلی سے مبینہ طور پر کنٹریکٹر کو کروڑوں روپے کا فائدہ جبکہ ادارے کو ہفتہ وار ایک کروڑ 3 لاکھ روپے سے زائد کا براہِ راست خسارہ برداشت کرنا پڑیگا۔ ذرائع کے مطابق شالیمار ایکسپریس ٹرین کو فیصل آباد، لاہور سیکشن کی بحالی تک لاہور سے براستہ ساہیوال، ملتان مین لائن سے کراچی چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر روٹ کی تبدیلی سے شالیمار ایکسپریس ٹرین کی ہفتہ وار قسط میں ایک کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رعایت دیدی گئی ہے۔ ذرائع سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق جہاں پہلے کنٹریکٹر ریلوے کو یومیہ 71 لاکھ 66 ہزار روپے جبکہ ایک ہفتے میں 5 کروڑ 1 لاکھ 67 ہزار 970 روپے ادا کرنے کا پابند تھا، وہیں اب نئی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اس رقم کو کم کر کے یومیہ صرف 57 لاکھ 33 ہزار روپے (ہفتہ وار 4 کروڑ 13 لاکھ 4 ہزار 376 روپے) کردیا گیا ہے۔ یوں افسران اور کنٹریکٹر کی مبینہ سازباز سے ریلوے کو روزانہ 14 لاکھ 33 ہزار روپے اور ہفتہ وار ایک کروڑ 3 لاکھ روپے سے زائد کا براہِ راست خسارہ برداشت کرنا پڑیگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ٹرین کا روٹ تبدیل کر کے کنٹریکٹر کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ اس بارے میں ریلوے کے بعض افسروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آئندہ کیلئے کنٹریکٹرز کیلئے راستے کھل گئے ہیں، کنٹریکٹ رولز میں ایسی رعایت نہیں دی جاسکتی لیکن اب دیگر کمپنیاں بھی اس طرح کی درخواستیں دیکر فائدہ حاصل کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین کا روٹ تبدیل ہونے سے مسافروں کی تعداد متاثر ہوئی ہے جس کا اثر آمدن پر پڑا ہے، اسی وجہ سے بڈ کو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے میرٹ پر ریوائز کیا گیا ہے تاہم ریلوے پل کے بحال ہونے پر ٹرین کا سابقہ روٹ بحال کردیا جائیگا۔
شالیمار ایکسپریس کا روٹ تبدیل، کنٹریکٹر کو کروڑوں کا فائدہ، ادارے کو خسارہ


















