اسلام آباد: (بیورورپورٹ)دفتر خارجہ نے کہاہے پاکستان ،افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ دہشتگردی ، طالبان حکومت افغان سر زمین سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سہولت کار یا چشم پوشی کر رہی ہے،پاکستان اپنے حصے کے ایک قطرہ پانی پر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا، سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔
ہفتہ وار بریفنگ میں طاہر اندرابی نے کہاوزیر اعظم شہباز شریف 26مئی تک چین کا دورہ کرینگے،صدر شی جن پنگ ،وزیر اعظم لی چیانگ سے ہو گی،طالبان حکومت تحریری یقین دہانی دے افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی ورنہ تعلقات موجودہ سطح پر ہی رہیں گے،سفارتی تعلقات کے 75سال پر پاک چین لازوال دوستی و باہمی تعاون کا اعادہ کیا جارہا ہے،وزیر اعظم کا دورہ پاکستان ،چین کی آل ویدر سٹریٹجک پارٹنر شپ کی تجدید و مزید مضبوطی کا باعث بنے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا سعودی عرب اور یو اے ای کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پیش آئے، ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان نے ڈرون واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ،امید ہے ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے، مقبوضہ کشمیر میں ہونےوالی بربریت کی عالمی برادری گواہ،، بھارت خطے میں دہشتگردی پھیلانے کے درپے ، جموں و کشمیر تنازع کا حل اقوامِ متحدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ضروری ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق کے فورمز پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
طاہر اندرابی نے کہا پاکستان ،یو اے ای کے تعلقات مضبوط ہیں، ری سیٹ کرنے کی ضرورت نہیں اگر کسی غیر منصفانہ بے دخلی کا معاملہ ہوا تو دو طرفہ چینلز کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے۔
تعلقات میں بہتری کیلئے طالبان کو دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کرنا ہوگی،پاکستان



















