تہران: (مشرق نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے امریکہ ایرانی شرائط تسلیم ،بحری ناکہ بندی ختم کردے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے کے اندر کھول دی جائے گی۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہاجنگ کے خاتمے کا واحد راستہ منصفانہ و باوقار مذاکرات ،امریکہ جنگ ،سفارتکاری دونوں محاذوں پر ناکام ہوچکا ،ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ،منفی اقدامات سے کشیدگی میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوگا،امریکہ نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ا مریکہ نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے کچھ تجاویز پیش کیں،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے کردہ 7شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی،وقت ضائع کرنے اور یکطرفہ مطالبات مسلط کرنے کا دور ختم ہو چکا ،ایران پوری طاقت کےساتھ فوجی محاذ پر موجود ہے اور نئی حیران کن کارروائیوں کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کرےگا۔
دریں اثنا ایرانی فوج نے تمام میزائلوں کی رینج ،رفتار بڑھانے اورجدید خطوط پر اپ گریڈیشن کا کام شروع کردیا،ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نے اپنے بیان میں کہا دشمن کی ایک ہزار کلومیٹر دور تک موجودگی کے پیش نظر میزائلوں کی مار کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ،حالیہ جنگ کے دوران استعمال کیے گئے ایرانی میزائلوں نے موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا،کویت میں دشمن کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، ایرانی بحریہ کے سمندر سے داغے جانے والے کروز میزائلوں نے دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے میں کامیابی سمیٹی
امریکہ شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دینگے،ایران



















