پشاور:(بیورورپورٹ) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیاں موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس ،فوج نے امن کے قیام کےلئے بے شمار قربانیاں دیں، صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کےلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا،2دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا،دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لےکر دوبارہ آبادکاری تک ریاست ،وفاق کو مسلسل خبردار کیا گیا، مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کےخلاف آواز اٹھائی گئی تاہم بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزرا نے پروپیگنڈا ،جھوٹ قرار دیا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہاغلط پالیسی کے نتیجے میں دوبارہ پختونوں کا خون بہہ رہا ہے،صوبے کے عوام کو مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،لاڈلوں کےلئے ایک اور خیبر پختونخوا کےلئے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے،امن کےلئے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب کٹوتی کرکے پولیس کو دئیے،2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کےلئے وسائل فراہم کیے،پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہاصرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی،تمام سٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے، میری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن لایا جا سکتا ہے مگر کوئی سننے کو تیار نہیں،عوام کی مرضی ،عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو اپنے نظرئیے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیاں موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں،سہیل آفریدی



















