لاہور(خبر نگار/ تصاویر: شاہنواز)شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے سرکاری دعوے اب محض کاغذی کارروائیوں اور چند تصاویر تک محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ شالیمار زون کے ہربنس پورہ، باغبانپورہ اور سنگھ پورہ بازاروں کی زمینی حقیقت ان دعوﺅں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ایک طرف تو شہر میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھاری مشینری، نفری اور انتظامی اختیارات بروئے کار لائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف انہی تجاوزات کو برقرار رکھنے کے عوض مبینہ طور پر روزانہ ”سرکاری جگا“وصول کئے جانے کی شکایات نے پوری مہم کی سنجیدگی ہی مشکوک بنا کر رکھ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہربنس پورہ بازار میں تجاوزات قائم رکھنے کیلئے فی ریڑھی مبینہ طور پر 500 روپے یومیہ وصول کئے جا رہے ہیں اور یہ رقم زونل آفیسر ریگولیشن شہزاد رسول کے مبینہ کارِ خاص شیراز نامی اہلکار کے ذریعے اکٹھی کی جاتی ہے۔ الزام ہے کہ رقم کی ادائیگی کے بعد ریڑھی بانوں کو سڑکوں اور گزرگاہوں پر بلاخوف تجاوزات برقرار رکھنے کی کھلی سہولت مل جاتی ہے جس سے کارروائی کا اصل مقصد ہی بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ تجاوزات کے ذریعے اکٹھی ہونے والی مبینہ وصولیوں کا حساب کتاب رات گئے تک شالیمار زون کے دفتر میں جاری رہتا ہے اور بعض ذرائع کے مطابق ایسے مواقع پر ایک خاتون زونل افسر اور میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل کی موجودگی بھی دیکھی گئی۔ ہربنس پورہ کے علاوہ باغبانپورہ اور سنگھ پورہ بازار بھی برسوں سے تجاوزات کی لپیٹ میں ہیں۔ باغبانپورہ کے گنجان بازار میں ریڑھیوں کے باعث ٹریفک کی روانی درہم برہم رہتی ہے جبکہ سنگھ پورہ سبزی منڈی کے باہر قائم تجاوزات شہریوں کی آمدورفت کیلئے روزانہ کا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ ان دونوں بازاروں میں بھی مبینہ منتھلی نظام کی نشاندہی پہلے ہو چکی ہے، مگر بار بار نشاندہی کے باوجود مو¿ثر کارروائی نہ ہونا ریگولیشن ونگ کی نگرانی اور احتساب کے پورے ڈھانچے سبوتاژ کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہزاد رسول کو میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل کا قریبی سمجھا جاتا ہے، اور اسی بنا پر انہیں شالیمار زون سمیت متعدد زونز کا اضافی چارج بھی حاصل ہے۔ اس صورتحال میں جب مبینہ وصولیوں میں شیراز نامی اہلکار کا نام بار بار سامنے آ رہا ہو، تو ڈپٹی کمشنر لاہور، چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اور متعلقہ ریگولیشن حکام کی مکمل خاموشی حیران کن ہے۔ نہ کوئی انکوائری، نہ کسی ذمہ دار سے جواب طلبی، گویا نظام خود ہی اپنے اندر موجود بے قاعدگیوں سے صرفِ نظر کئے ہوئے ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ”تجاوزات سے پاک لاہور“ مہم کا مقصد شہریوں کو کھلی سڑکیں اور صاف گزرگاہیں دینا ہے، مگر شالیمار زون کے یہ بازار اس مہم کے دعوﺅں اور زمینی نتائج کے مابین موجود خلیج کو صاف عیاں کر رہے ہیں۔ چند گھنٹوں کا آپریشن، سامان ضبط کرنا یا تصاویر جاری کر دینا تجاوزات کا مستقل حل نہیں، جب تک ان کے دوبارہ قائم ہونے کے پیچھے کارفرما مبینہ سہولت کاری کا سدباب نہ کیا جائے۔ ہربنس پورہ، باغبانپورہ اور سنگھ پورہ میں تجاوزات، مبینہ وصولیوں اور رات گئے دفتر میں ہونے والے مبینہ حساب کتاب کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہی یہ واضح کر سکتی ہیں کہ سرکاری اختیارات تجاوزات کے خاتمے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں یا انہیں برقرار رکھنے کیلئے۔
لاہور(خبر نگار) میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل کی جانب سے ریگولیشن ونگ کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کسی بھی دکان یا مقررہ جگہ سے ایک فٹ آگے بھی کوئی چیز رکھنا مکمل طور پر غیر قانونی تصور ہوگا۔ ان ہدایات کے مطابق ایک فٹ کی معمولی تجاوز کو بھی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور اگر اس کی اجازت نچلے درجے کے پیرا فورس اہلکاروں نے دی ہو یا خود کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہو، دونوں صورتوں میں اسے غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ یہ سخت موقف ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ جب پالیسی کی سطح پر ایک فٹ کی گنجائش بھی برداشت نہیں کی جا رہی، تو ہربنس پورہ، باغبانپورہ اور سنگھ پورہ جیسے بازاروں میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قائم واضح اور دیرینہ تجاوزات کس طرح اور کن مبینہ سہولتوں کے سہارے برقرار ہیں؟ ایم او آر کی ہدایات اور میدانی حقائق کے مابین یہ فرق خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پالیسی کاغذ پر جتنی سخت ہے، عملدرآمد اتنا ہی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔
تجاوزات خاتمے کی کارروائیاں تصاویر تک محدود،زمینی حقائق دعوﺅں کے برعکس

















