لاہور (میاں ذیشان) بورڈ آف ریونیو کا شہریوں کو ریلیف دینے کیلئے اہم اقدام، تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کو تفویض اختیارات استعمال کرنے کی سخت ہدایت، اختیارات موجود ہونے کے باوجود رجسٹری کے اختیارات استعمال نہ کرنے والے ریونیو افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے، جائیداد کی رجسٹری کیلئے شہریوں کو غیر ضروری دفتری چکروں سے بچانے کی کوشش، کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سے عملدرآمد رپورٹ طلب کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں شہریوں کو جائیداد سے متعلق معاملات میں فوری اور آسان سہولت کی فراہمی، رجسٹری کے عمل کو نچلی سطح تک موثر بنانے اور ریونیو نظام میں اختیارات کے عملی استعمال کو یقینی بنانے کیلئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے تمام تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کو اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں دستاویزات کی رجسٹری کیلئے پہلے سے تفویض کردہ اختیارات ہر صورت استعمال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری مراسلے میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ تمام تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کو اپنے اپنے علاقوں میں دستاویزات کی رجسٹری کرنے کے واضح اختیارات تفویض کئے جانے کے باوجود بعض ریونیو افسران ان اختیارات کو مقررہ ہدایات، قانون اور اختیارات کی تفویض کی اصل روح کے مطابق استعمال نہیں کر رہے، جس کے نتیجے میں ایک طرف شہریوں کو جائیداد کی دستاویزات کی رجسٹری کیلئے غیر ضروری دفتری مراحل، انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے نچلی سطح پر عوام کو سہولت فراہم کرنے کیلئے کئے گئے انتظامی اقدامات بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہے، بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 11 اکتوبر 2024 اور 3 جولائی 2025 کو جاری کئے گئے احکامات کے تحت تمام تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کو ان کے متعلقہ دائرہ اختیار میں دستاویزات کی رجسٹری کے اختیارات تفویض کئے گئے تھے، تاہم ان واضح احکامات کے باوجود بعض افسران کی جانب سے تفویض شدہ اختیارات استعمال نہ کئے جانے کا معاملہ سامنے آنے پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بروقت نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا بلکہ تمام متعلقہ ریونیو حکام کو اختیارات کے عملی اور مﺅثر استعمال کو یقینی بنانے کی واضح ہدایت بھی جاری کی ہے، بورڈ آف ریونیو کے اس اقدام کو شہریوں کیلئے ریونیو سہولیات بہتر بنانے اور افسران کو ان کی قانونی و انتظامی ذمہ داریوں کا پابند بنانے کی جانب قابل تحسین پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ جب کسی افسر کو باقاعدہ طور پر کسی کام کا اختیار تفویض کر دیا جائے تو اس اختیار کو استعمال نہ کرنا عوامی سہولت کے مقصد کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی کارکردگی پر بھی سوال پیدا کرتا ہے، خصوصاً جائیداد کی رجسٹری جیسے معاملات میں تاخیر شہریوں کیلئے مالی، قانونی اور انتظامی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے معاملے کا فوری نوٹس لینا اس امر کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی ریونیو انتظامیہ شہریوں کو دستیاب سہولیات کو محض کاغذی احکامات تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے عملی نفاذ پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، جس سے ریونیو افسران کی جواب دہی بڑھانے اور اختیارات کے استعمال میں موجود غفلت یا سستی کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی، بورڈ آف ریونیو نے تمام ڈویڑنل کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے احکامات پر مکمل اور مﺅثر عملدرآمد یقینی بنائیں اور اس حوالے سے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کریں جبکہ مراسلے کی نقول تمام ڈپٹی کمشنروں، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری ریونیو کو بھی ضروری کارروائی اور آگاہی کیلئے ارسال کی گئی ہیں، ریونیو حلقوں کے مطابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تفویض شدہ اختیارات کے استعمال پر خصوصی توجہ دینا انتظامی نظم و ضبط کی بہتری کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ شہریوں کو وہ سہولت اپنے قریبی ریونیو دفتر میں دستیاب ہو جس کا فیصلہ حکومت اور بورڈ آف ریونیو پہلے ہی کر چکے ہیں، جبکہ تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی جانب سے تفویض شدہ اختیارات استعمال نہ کرنے کی روش کو ختم کرنا بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے تاکہ افسران اپنی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنے یا شہریوں کو غیر ضروری مراحل میں الجھانے کے بجائے قانون کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لائیں، بورڈ آف ریونیو کی اس ہدایت پر موثر عملدرآمد کی صورت میں رجسٹری کے معاملات میں غیر ضروری تاخیر کم ہونے، شہریوں کو متعلقہ تحصیل کی سطح پر سہولت ملنے، افسران کی جواب دہی بڑھنے اور ریونیو نظام میں شفافیت و انتظامی نظم مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کا بروقت اقدام اس عزم کا اظہار ہے کہ تفویض شدہ اختیارات کو غیر فعال رکھنے کے بجائے انہیں عوامی مفاد میں استعمال کرایا جائے گا اور فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے والے افسران کے طرز عمل کو نظر انداز نہیں کیا جائیگا۔
تحصیلداروں ،نائب تحصیلداروں کو تفویض اختیارات استعمال کرنیکی ہدایت


















