اسلام آباد:(بیورورپورٹ)الاٹ کی گئی زمین پر حق تسلیم،مخالف فریقین کا دعویٰ مسترد ،سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنےوالی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا2000کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ،عدالت عظمٰی نے قرار دیا تسلیم شدہ حقیقت ہے عبدالکریم پاکستان بننے سے پہلے فوت ہوئے، بیوہ نے پاکستان میں مستقل آباد کاری کیلئے ذاتی حیثیت سے زمین کی الاٹمنٹ کیلئے درخواست دی،زمین پر فریقین نے حصہ دار ہونے کا دعویٰ کیاوہ کبھی عبدالکریم کی ملکیت رہی ہی نہیں،جائیداد بے گھر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کو الاٹ کی گئی ، مخالف فریقین نے بھارت سے ہجرت کر کے آنے کا دعویٰ نہیں کیا، مرحوم عبدالکریم کے رشتے دار کا جائیداد کا دعویٰ بھارت میں چھوڑی گئی زمین کی حد تک ہو سکتا ہے۔
علاوہ ازیں خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں نصف صدی بعد حتمی ریلیف مل گیا، سپریم کورٹ نے زیتون کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست مسترد کردی۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر ی فیصلے میں کہا عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے، عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم ہے،عدالتی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ، فریقین ،وکلا اکثر عدالت کی مہربانی کو ضابطے کی رسمی کارروائی سمجھتے ہیں تاہم عدالتی احکامات کی سنجیدگی ،تقدس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا 4 مارچ 2024 کا حکم واپس لینے کے برابر ہوگا، زیتون کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔
بھارت سے ہجرت کرکے آنے والی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ

















