لاہور (مشرق نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں 2 مجرموں کی سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں۔ عدالت نے دونوں مجرموں کی سزائے موت کی سزا کو برقرار رکھا، پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے بہترین کیس پیش کرنے پر پراسکیوشن ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اپیلوں پر سماعت کی، مجرم عابد ملہی اور شفقت بگا نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ مجرموں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، ٹرائل کورٹ میں ہمارے موقف کو ٹھیک سے سنا نہیں گیا، عدالت ٹرائل کورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دے۔
پراسکیوٹر میڈم راحیلہ شاہد نے اپیلوں کی مخالفت کی اور کہا کہ اے ٹی سی نے درست فیصلہ دیا ہے، مجرموں کو میرٹ پر سزا موت ہوئی، دونوں مجرموں کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں، اپیلوں کو خارج کیا جائے۔ بعدازاں عدالت نے تمام دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے مجرموں کی اپیلیں خارج کر دیں۔
یاد رہے انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں مجرموں کو 20 مارچ 2021 کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا، دونوں مجرموں نے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کو 25 مارچ 2021 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔
موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس: مجرم عابد اور شفقت بگا کی سزا کیخلاف اپیلیں خارج


















