پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے سے کاروبار متاثر ہوں گے :تاجر رہنما

لاہور (رپورٹ: نعیم جاوید)آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27ءمیں حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھانے، پرچون کاروبار کیلئے فکسڈ ٹیکس نظام، نان فائلرز کے خلاف مزید سخت اقدامات اور بعض شعبوں پر اضافی محصولات عائد کئے جانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ بجٹ دستاویزات اور کاروباری حلقوں کی سفارشات کے مطابق ایف بی آر کو محصولات کا بڑا ہدف دیا جا سکتا ہے جس کیلئے نئے ٹیکس اقدامات متوقع ہیں۔ روزنامہ مشرق سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف تاجر رہنماوں تاجر رہنماو¿ںوقار احمد مےاں، فاران سعےد بٹ،مےاں سلےم ،راجہ حسن اختر،ناصر حمےد خان،کاشف انور،ممتاز بخاری،عمر قرےشی،مےاں زاہد جاوےد،عادل منےر،وسےم راجہ نے کہا کہ حکومت اگر محصولات بڑھانے کیلئے صرف پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقے پر مزید بوجھ ڈالے گی تو کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری محصولات پہلے ہی کاروبار کی لاگت میں اضافہ کر چکی ہیں، ایسے میں مزید ٹیکس مہنگائی کو بڑھا سکتے ہیں۔ تاجروں کے مطابق اگر نئے ٹیکسوں کا نفاذ درآمدی اشیا، پٹرولیم مصنوعات یا سیلز ٹیکس کی مد میں کیا گیا تو اس کا براہ راست اثر عام صارف تک پہنچے گا۔ روزمرہ استعمال کی اشیا، ٹرانسپورٹ، تعلیمی اخراجات اور گھریلو بجٹ مزید دباو¿ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے تاکہ غیر دستاویزی معیشت کو بھی قومی خزانے میں حصہ ڈالنے کا پابند بنایا جا سکے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر بجٹ میں تقریباً 500 ارب روپے یا اس سے زائد کے نئے محصولات عائد کیے گئے تو مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور عوام کی قوت خرید میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ مالیاتی اہداف اور بین الاقوامی مالیاتی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے محصولات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کاروباری لاگت کم کرنے، توانائی نرخوں میں کمی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے تاکہ معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔