لاہور(قمر عباس) پی ایچ اے لاہور انتظامیہ کا شہر بھر میں 800سے زائد پارکس 275کے قریب گرین بیلٹس پر سالانہ فنڈز 5.6 ارب مختص جبکہ فی پارک سالانہ تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ، 7100سے زائد ریگولر اور ورک چارج ملازمین پارکس اینڈ گرین بیلٹس کی دیکھ بھال پر مامور، بجٹ کا بڑا حصہ دفتری و نان ڈویلپمنٹ اخراجات کی نذر، متعدد پارکس میں سوکھی گھاس اور مرجھائے پودوں اور روشنی کا ناقص انتظام سمیت صفائی صفر جو انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان پیدا کر رہے ہیں۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی (پی ایچ اے) لاہور کے زیر انتظام شہر بھر میں 828 لاہوریوں کو تفریحی مقامات اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کی خاطر پارکس اور 275 گرین بیلٹس قائم ہیں جس کی دیکھ بھال پر 3000سے زائد ریگولر 4600کے قریب ورک چارج ملازمین تعینات کر رکھے ہیں جو کہ سکیل 1سے سکیل 16کے ملازمین شامل ہیں لاہور شہر میں عوامی تفریح اور ماحولیاتی بہتری کیلئے قائم پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی (پی ایچ اے) اس وقت سینکڑوں پارکس اور گرین بیلٹس کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے، تاہم مالی دباو¿، عملے کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ادارے کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے پی ایچ اے لاہور کے زیرانتظام پارکس، گرین بیلٹس اور ہارٹیکلچر سائٹس ہیں، جن میں جیلانی پارک، گلشن جناح، گریٹر اقبال پارک اور شہر کے مختلف رہائشی علاقوں میں قائم چھوٹے بڑے عوامی پارکس شامل ہیں ان پارکس کی دیکھ بھال، سبزہ کاری، صفائی، روشنی، آبپاشی اور تزئین و آرائش کیلئے ہر سال خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی (پی ایچ اے) کو سالانہ دستیاب مالی وسائل کا حجم اور سرکاری بجٹ اور ادارے کی اپنی آمدنی کو یکجا کیا جائے تو پی ایچ اے لاہور کے پاس سالانہ ساڑھے پانچ ارب روپے سے زائد فنڈز دستیاب ہیں مگر اس کے باوجود شہر کے درجنوں پارکس زبوں حالی کا شکار ہیںذرائع کے مطابق موجود فنڈز میں سے اوسط فی پارک سالانہ خرچ تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ روپے آرہا ہے ایک مالی یا ورکر پر کئی پارکس کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے بعض علاقوں میں ایک پارک کیلئے مستقل عملہ موجود ہی نہیں یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ فیلڈ ورک کے بجائے دفتری و نان ڈویلپمنٹ اخراجات کی نذر ہو رہا ہے جن میںنئے پارکس، تزئین و آرائش اور منصوبہ جات تنخواہیں، مرمت، روزمرہ دیکھ بھال، ایندھن اور دیگر انتظامی امور) شامل ہیں ذرائع کے مطابق حالیہ برسوں میں نان ترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ تنخواہوں، یوٹیلیٹی بلز اور دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے، جبکہ محدود بجٹ کے باعث کئی ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ پی ایچ اے لاہور حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ کی کمی، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے باوجود پارکس کی دیکھ بھال کو ترجیح دی جا رہی ہے اور کارکردگی بہتر بنانے کیلئے جدید انتظامی اور مانیٹرنگ نظام متعارف کرانے پر بھی کام ہو رہا ہے، فنڈ ز میں اضافہ کے بعد افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے تو نہ صرف موجودہ پارکس کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ شہریوں کو مزید معیاری تفریحی سہولیات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ لاہور کے پارکس کا مستقبل براہِ راست پی ایچ اے کے مالی استحکام اور پالیسی ترجیحات سے جڑا ہوا ہے محدود وسائل کے باوجود شہر کو سرسبز اور خوبصورت رکھنے کیلئے کوشاں ہے۔
کروڑوں کے اخراجات کے باوجود شہر کے پارکس خستہ حالی کا شکار


















