لاہور (میاں ذیشان) پنجاب بھر میں جائیدادوں کے ڈی سی ریٹس میں 15 فیصد تک متوقع اضافہ، عوام اور رئیل سٹیٹ سیکٹر پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان، جائیداد کی خرید و فروخت پر سرکاری محصولات میں نمایاں اضافہ کے باعث عوام الناس، رئیل سٹیٹ سیکٹر منسلک سرمایہ کاروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں ہر سال مالی سال کے آغاز پر ماہ جولائی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جائیدادوں کے ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) ریٹس کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے اور مارکیٹ ویلیو، ترقیاتی منصوبوں، شہری آبادی میں اضافے، کاروباری سرگرمیوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ان نرخوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت پنجاب کی جانب سے ہر سال اضافے کا کوئی باقاعدہ اور یکساں فیصد مقرر نہیں کیا جاتا تاہم ماضی کے رجحانات کے مطابق مختلف اضلاع اور علاقوں میں عموماً 5 فیصد سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ تجارتی مراکز، مرکزی شاہراہوں، ہاﺅسنگ سوسائٹیوں اور تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں یہ شرح بعض اوقات اس سے بھی زیادہ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال مالی سال 2026-27ءکے آغاز پر بھی پنجاب کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، قصور، ساہیوال، گجرات اور سیالکوٹ سمیت مختلف اضلاع میں ڈی سی ریٹس میں 10 فیصد سے 25 فیصد تک اضافے کی تجاویز زیر غور ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کا مقصد سرکاری ریونیو میں اضافہ اور جائیدادوں کی سرکاری مالیت کو مارکیٹ ریٹس کے قریب لانا بتایا جا رہا ہے۔ ڈی سی ریٹس میں اضافے کے نتیجے میں پراپرٹی کی خرید و فروخت، انتقال، رجسٹری، فرد، ایڈوانس ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، سٹامپ ڈیوٹی، تحصیل کونسل فیس اور دیگر سرکاری محصولات کی مد میں شہریوں کو زیادہ ادائیگیاں کرنا پڑ سکتی ہیں کیونکہ بیشتر ٹیکسز کا تعین جائیداد کی سرکاری مالیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اگر مثال کے طور پر کسی علاقے میں ڈی سی ریٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو اس سے متعلقہ ٹیکسز اور فیسوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہوگا، جس سے عام خریدار، سرمایہ کار اور متوسط طبقے کے شہری اضافی مالی بوجھ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ ڈی سی ریٹس کو حقیقت کے قریب لانے سے پراپرٹی کی کم قیمت ظاہر کرکے ٹیکس چوری کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو گی اور قومی خزانے کو اضافی آمدن حاصل ہو گی۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اضافہ معتدل سطح پر رکھا گیا تو مارکیٹ اس کا بوجھ برداشت کر لے گی، تاہم زیادہ شرح سے اضافے کی صورت میں خرید و فروخت کی سرگرمیاں وقتی طور پر سست پڑ سکتی ہیں، سرمایہ کاری میں کمی آ سکتی ہے اور پراپرٹی سیکٹر میں نقدی کا بہاو¿ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مارکیٹ ویلیو اور سرکاری ریٹس کے درمیان فرق کم ہونے سے لین دین میں شفافیت بڑھے گی اور طویل مدت میں یہ اقدام ریونیو وصولی اور دستاویزی معیشت کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر آئندہ جولائی میں ڈی سی ریٹس میں متوقع اضافہ پنجاب کے رئیل سٹیٹ شعبے، سرمایہ کاروں، تعمیراتی صنعت اور عام شہریوں کیلئے ایک اہم معاشی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے، جس کے حتمی اثرات حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی شرحوں اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔
پنجاب، جائیدادوں کے ڈی سی ریٹس میں 15 فیصد تک اضافہ متوقع


















