پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے رہے ہیں،ایران

تہران:(مشرق نیوز)امن مشن،فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں،تہران نے کہاہے پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

سید عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے خصوصی ملاقات کی، خطے میں کشیدگی کم کرنے کےلئے بات چیت کی گئی، وزیر داخلہ محسن نقوی،سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے،فیلڈ مارشل ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف سے بھی ملے،ایران امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا،ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے کہا ملک وقوم کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، جنگ بندی کے دوران ایرانی فوج نے خود کو دوبارہ مضبوط کر لیا ۔

قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں کشیدگی کم کرنے، امن و استحکام،سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا،فیلڈمارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیرخارجہ کےساتھ مشق سکوائر کا دورہ کیا،تاریخی عمارتیں دیکھیں۔

دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہاامریکہ کے ضرورت سے زیادہ مطالبات امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،امریکہ ماضی میں ٹوٹے وعدوں، متضاد موقف اور فوجی جارحیت کے ذریعے سفارتکاری کو بارہا نقصان پہنچاتا رہا ہے پھر بھی ایران پاکستان کی ثالثی میں ہونےوالے مذاکرات میں سنجیدگی سے شریک ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گوتریس نے کسی بھی ریاست کی خودمختاری کےخلاف طاقت کے استعمال کو مسترد کیا اور خطے میں استحکام کی بحالی کےلئے سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ایران ،امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے ذریعے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے،آبنائے ہرمز پرکسی بھی نظام یا طریقہ کار پر ایران، عمان واہم آبی گزرگاہ سے ملحق دیگر ممالک کے درمیان اتفاق ہونا چاہیے ،امریکہ کا معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہاامریکی ناکہ بندی اور پابندیاں اہم مسئلہ ،لبنان و دیگر خطوں میں جنگ کا خاتمہ ترجیح ہے،ایران ،امریکہ ابھی معاہدے سے بہت دور اور بہت قریب ہیں، فیلڈ مارشل کے دورے کا مقصد پیغامات کا تبادلہ کرنا تھا،امریکی حکام بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا نہیں کہہ سکتے ایسے مقام پر پہنچ چکے کوئی معاہدہ قریب ہو، مذاکرات کا محور جنگ کا خاتمہ ہے،مذاکرات میں پاکستان ثالث ،قطر کا وفد عباس عراقچی کےساتھ بات چیت کررہا ہے،ایران ،امریکہ کے درمیان اختلافات گہرے و نمایاں ہیں، چند دوروں، ہفتوں یا مہینوں کی بات چیت کے بعد نہیں کہہ سکتے کسی نتیجے پر پہنچیں گے،یقینی طور پر کسی نتیجے پر پہنچیں گے، سفارتکاری میں وقت لگتا ہے، جوہری مسئلے پر فی الحال کوئی بات نہیں کی جا رہی۔

ترجمان وزارت دفاع نے کہاایران کے حقوق کو تسلیم کرنے میں ناکامی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےلئے مزید ناکامیوں کا باعث بنے گی، ٹرمپ کے پاس ایرانی قوم کے مطالبات ،حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

علاوہ ازیں ایران ،عمان کے وزرائے خارجہ میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا ،خطے کی تازہ ترین صورتحال ،حالیہ معاملات، جنگ کے خاتمے اورکشیدگی سے بچنے کےلئے سفارتی کوششوں پربھی گفتگو کی گئی۔