بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشتگرد تنظیم ہے، امریکی جریدہ


واشنگٹن:(بیورورپورٹ)امریکی جرید ے نے بی ایل اے کو علیحدگی پسند نہیں سنگین دہشتگرد تنظیم قراردےدیا،دی ریئل کلیئر ورلڈ میں سابق امریکی فوجی افسر و دفاعی تجزیہ کار جو بوکینو کی بلوچستان لبریشن آرمی پر تحقیق میں اہم انکشافات کیے گئے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کو صرف علیحدگی پسند تحریک کہنا فرسودہ و غلط تصور،سیاسی محرومیوں سے جنم لینے والی تحریک سے بدل کر جدید طرز کی دہشتگرد تنظیم میں تبدیل ہو چکی ،عام شہریوں و قومی انفرسٹرکچر پر دانستہ حملے بی ایل اے کی حکمت عملی کا حصہ ہے،خوف، عدم استحکام اور ریاستی کمزوری پیدا کرنا بی ایل اے کا بنیادی طریقہ کار بن گیا۔

امریکی تجزیہ کار نے کہا بی ایل اے بلوچ عوام کی حقیقی امنگوں و زمینی حقائق سے کٹ چکی، بلوچ عوام کی ترجیح علیحدگی نہیں بلکہ روزگار، بہتر طرز حکمرانی، بدعنوانی کا خاتمہ اور امن ہے، سرویز میں علیحدگی کی حمایت نہ ہونے کے برابر اور اکثریت خود کو پاکستانی شناخت سے جوڑتی ہے،تحقیق میں کہا گیابلوچستان میں بے چینی کی اصل وجوہات سیاسی شمولیت کی کمی و کمزور نمائندگی ہے، مرکزی دھارے کے بلوچ رہنما آئینی و سیاسی عمل کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حامی جبکہ بی ایل اے عوام سے دور ہے، بی ایل اے کی حکمت عملی میں تبدیلی، خودکش حملے ، ہمہ جہت دہشتگردی پر فوکس ہے۔

تجزیہ کار نے کہا ٹرین ہائی جیکنگ، بیک وقت کئی شہروں میں حملے ،اہم تنصیبات کی تباہی خطرناک رجحان ہے، شہری مقامات، بسیں، تعلیمی ادارے ،عام لوگ بھی بی ایل اے کے نشانے پر ہیں،بی ایل اے عسکریت و جرائم کا امتزاج ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، سمگلنگ ،غیر قانونی سرگرمیاں فنڈنگ کے ذرائع ہیں،بی ایل اے ،ٹی ٹی پی سمیت مختلف گروہوں کے درمیان عملی تعاون دہشتگرد نیٹ ورک کا پھیلاو ظاہر کرتا ، چینی شہریوں، بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ روٹس ، سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانا پاکستان کےخلاف معاشی جنگ کا پہلو واضح کرتا ہے۔

امریکی جریدے ریئل کلیئر ورلڈ کے مضمون میں مزید لکھا گیا سرحد پار محفوظ ٹھکانے، اسلحہ و انٹیلی جنس سپورٹ بیرونی کردار کے شواہد ہیں، بی ایل اے کی کارروائیاں بلوچ عوام کے جائز مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں، پاکستان میں بی ایل اے علیحدگی پسند تحریک سے زیادہ خطرناک ہے۔