لاہور:(وقائع نگار)پولیس اصلاحات کیلئے 3ماہ کی ڈیڈلائن،جامع پلان طلب، وزیراعلیٰ مریم نوازنے پولیس کو ہر شہر ی کو سر کہہ کر پکارنے کا حکم دیدیا۔
ہر تھانے کے باہر پولیس شکایات کے ازالے کےلئے پینک بٹن نصب ،ہر تھانے کے 10اہلکاروں پر باڈی کیم نصب ، انویسٹی گیشن کی ویڈیو ،آڈیو ریکاڈنگ کرنے ، ایف آئی آرکے اندراج کےلئے آن لائن ٹریکنگ ،کاغذات وشناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا،باڈی کیم کےلئے فنڈز کی منظوری دےدی گئی۔
مریم نوازنے آئی جی ودیگر پولیس افسروں کو خود فون کر کے عوامی فیڈ بیک لینے،لاہور سمیت پنجاب میں ٹریفک کو لین میں چلنے کا پابند بنانے ،ضلعی انتظامیہ،سی اینڈ ڈبلیو ،ٹیپا کو لین مارکنگ ،لوگوں کو سڑک عبور کرنے کے طریقے کار سے آگاہی دینے کاحکم دیتے ہوئے ٹریفک پولیس ون ایپ ،سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا بھی آغاز کردیا۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ دی گئی ایف آئی آر کے اندرا ج کیلئے پولیس 5سوال کر سکے گی،پنجاب کے کرائم میں مجموعی طورپر 48فیصد اوربڑے جرائم میں 80فیصد تک کمی نوٹ کی گئی،8منٹ میں رسپانس ٹائم دینے سے منفی فیڈ بیک کم ،ساہیوال ،گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کال نہ ہونے کے برابرہے،پراپرٹی کے جھگڑے کم ہونے سے کرائم نیچے،پنجاب میں ہر سال ایک کروڑ 68لاکھ لوگ تھانوں کا وزٹ کرتے ، 68فیصد لوگ پولیس خدمت مرکز کی سروسز کےلئے آتے ہیں،ایف آئی آر کے دیر سے اندراج کی وجہ سے مجرم فائدہ اٹھاتا ہے۔
مریم نوازنے کہا بچوں کےساتھ درندگی کرنےوالے کسی رعایت کے مستحق نہیں،پولیس میں بڑے جرم پر چھوٹی سزا ،چھوٹی غلطی پربڑی سزا مل جاتی ہے ابھی نہیں تو پھر کبھی پولیس ریفارمز نہیں کرسکتے،پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں، عوام کو یقین ہونا چاہیے پولیس مشکل میں مدد کرے گی،پنجاب میں پولیس کیلئے ضابطہ اخلاق وٹریننگ ضروری ہے،میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرے تو برداشت نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہاخواتین تھانے نہیں آسکتیں تو موبائل پولیس سٹیشن چل کر شکایت کے ازالے کیلئے جائیں،شکایت کرنے والی خاتون کی تذلیل کی بجائے حوصلہ افزائی و مدد کی جائے،بچے ڈر سے بولتے نہیں،تعلیمی اداروں میں بدسلوکی کی جرات نہیں ہونی چاہیے،بچوں کی حفاظت و خیال نہ رکھنے والے والدین کیلئے قوانین متعارف کرانا چاہتے ہیں،خبر آتی ہے آوارہ کتے بچے کو نوچ کر کھا گئے تو والدین کہاں تھے،پیشگی اقدامات کیلئے پولسنگ کو موثر بنانا ہوگا،رویوں میں تبدیلی بہت ضروری ہے،غریب لوگ ڈر کے مارے پولیس کے پاس نہیں جاتے،ہراسمنٹ کی شکایت پر پولیس کا رویہ سائل کے ساتھ توہین آمیز ہوتا ہے،شاباش اگر عوام کے سامنے دی جاتی ہے تو سزا بھی عوام کے سامنے دی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا لوگوں کا سسٹم پر یقین بحال ہونا چاہیے،پولیس کی گرومنگ ،موک سیشن کرائے جائیںاب کسی پولیس اہلکار کو سر اورجناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر اوپر کی سطح تک کرپشن ہوگی تو اثرات تھانہ لیول تک جائیں گے،عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں،وی آئی پی کے راستے سے عوام کو ہٹانے کیلئے تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے،کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی ضرور دیں لیکن عوام کی عزت کا بھی خیال رکھیںپنجاب ہے کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں غریب کو کو ئی پوچھنے والا نہ ہو۔
وزیراعلیٰ نے کہا پولیس میں اصلاحات کیلئے شارٹ ٹرم،مڈٹرم ،لانگ ٹرم پلان تیار کیے جائیں،لوگوں نے بسنت پر مثبت ردعمل دیا،روڈز پر ون وے کی خلاف ورزی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے،قانون کو بلاامتیاز نافذ کرنے کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں، ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں کی طرف سے اوئے کہہ کر بلانے کا کلچر ختم کیا جائے، غلطیوں کو چھپانے کا رویہ بدلنا ہوگا،شکایت لگانے والے سائل کو مجرم بنانا افسوسناک ہے،پولیس میں پڑھے لکھے نوجوان بچوں کو سامنے لایا جائے،کالج کے طلبہ کو پولیسنگ سکھائی ، سٹیزن مینجمنٹ سسٹم ،ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم لایا جائے۔
پولیس اصلاحات کیلئے ڈیڈلائن،پولیس ہر شہر ی کو سر کہہ کر پکارے،مریم نواز



















