میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ناقص پالیسی، نئے پارکنگ سٹینڈز حکومتی دائرہ سے باہر

لاہور(خبر نگار)میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی ناقص پالیسی سازی اور سرد مہری کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت نئے پارکنگ سٹینڈز کو سرکاری دھارے میں نہ لا کر ماہانہ کروڑوں روپے کی آمدن سے محروم ہو رہا ہے جبکہ یہ خطیر رقم قومی خزانے میں جمع ہونے کے بجائے دیدہ دلیری کے ساتھ غیر قانونی پارکنگ مافیا کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز کو سرکاری دھارے میں لانے کیلئے 250 کے قریب ایسے مقامات کی نشاندہی کر کے ایڈمنسٹریٹر کو باضابطہ آگاہ کیا گیا ہے جو اس وقت ناجائز طور پر چل رہے ہیں۔ اگر ان غیر قانونی اور نجی پارکنگ سائٹس کو قانونی دائرے میں لا کر رجسٹر کر دیا جائے تو اس اقدام سے ایم سی ایل کو ماہانہ تقریبا اڑھائی کروڑ روپے تک کا شاندار ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ پرائیویٹ جگہوں پر پارکنگ سٹینڈز چلانے والے بے شمار افراد خود کو سرکاری دھارے میں شامل کرنے کیلئے تیار بھی ہیں، مگر انتظامی غفلت کے باعث یہ رقوم اب تک مافیا کی نذر ہو رہی ہیں۔ اس لاپرواہی کا خمیازہ نہ صرف قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے بلکہ شہر بھر میں آنے والے عام شہریوں اور موٹرسائیکل و کار مالکان کی جیبیں بھی روزانہ کی بنیاد پر کٹ رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے روایتی ہٹ دھرمی کی بجائے فوری عملی اقدامات نہ اٹھائے تو یہ مافیا مزید جڑیں مضبوط کر لے گا۔ ایک طرف لاہور پارکنگ کمپنی شہر بھر میں تقریباً 300 کے قریب پارکنگ سٹینڈز چلا کر اس مد میں ماہانہ ساڑھے 3 کروڑ روپے تک کا ریونیو اکٹھا کر رہی ہے، تو دوسری طرف سینکڑوں غیر قانونی سٹینڈز پر کاروبار پوری آب و تاب سے جاری ہے، مگر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کروڑوں روپے کی ماہانہ آمدن حاصل کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے۔