لاہور (مرزا ندیم بیگ/ میاں ذیشان) آئی جی جیل کو مبینہ رشوت دینے کی کوشش، گرفتار سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے خلاف تحقیقات جاری، 2 لاکھ روپے برآمد، 90 روزہ معطلی کے بعد پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی،آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کو مبینہ طور پر رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک عمران نوید اشرف کے معاملے میں تحقیقات کا عمل جاری ہے تاہم گرفتاری کے دو روز بعد بھی اینٹی کرپشن کی جانب سے مقدمے کی ایف آئی آر نمبر، دفعات، عدالت سے حاصل کیے گئے جسمانی ریمانڈ اور کسی مزید گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات باضابطہ طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔دستیاب سرکاری و معتبر ذرائع کے مطابق واقعہ 5 اکتوبر کی رات پیش آیا جب سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل عمران نوید اشرف آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کی رہائش گاہ پر گئے۔ ابتدائی ملاقات کے بعد وہ واپس چلے گئے تاہم کچھ ہی دیر بعد دوبارہ آئی جی کی رہائش گاہ پر پہنچے اور اہم بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ دوسری ملاقات کے دوران گیسٹ روم کی میز پر ایک لفافہ موجود تھا جس میں مبینہ طور پر دو لاکھ روپے تھے۔ آئی جی میاں سالک جلال نے رقم قبول کرنے کے بجائے فوری طور پر ہوم ڈیپارٹمنٹ اور اینٹی کرپشن حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد اینٹی کرپشن ٹیم نے موقع پر پہنچ کر سپرنٹنڈنٹ کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ٹیم نے کارروائی کے دوران مبینہ رشوت کی رقم بھی قبضے میں لے لی۔ دستیاب رپورٹوں میں رقم کی مالیت دو لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ تاہم تفتیشی حکام کی جانب سے تاحال یہ تفصیل سامنے نہیں آئی کہ رقم کس مخصوص کام یا فائدے کے عوض مبینہ طور پر دی جانی تھی اور گرفتار افسر کا اصل مقصد کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کی تفتیش میں اس پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ پہلی ملاقات ختم ہونے کے بعد دوبارہ آئی جی کی رہائش گاہ پر کیوں واپس آئے، لفافے میں موجود رقم کس مقصد کیلئے تھی اور آیا اس کا تعلق کسی سرکاری کام، تعیناتی، انتظامی معاملے یا کسی اور مبینہ فائدے سے تھا۔ تاہم ان سوالات کے حتمی جوابات تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔دوسری جانب پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے عمران نوید اشرف کو 90 روز کیلئے معطل کر دیا ہے اور ان کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی ایکٹ (پیڈا) 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشن کے مطابق معطل افسر کو انسپکٹریٹ آف پرزنز پنجاب لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے عمران نوید اشرف کی جگہ کاشف علی، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل لاہور کو سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک تعینات کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے ترجمان کے مطابق کرپشن، بدعنوانی، نااہلی، بدسلوکی اور قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمانہ احتساب کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ادھر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے واقعہ کے حوالے سے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات میں کرپشن، رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ماتحت افسران کے مسائل سننا اور میرٹ پر فیصلے کرنا ان کی ذمہ داری ہے، تاہم کسی افسر کو غیرقانونی طریقے سے فائدہ پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اہم امر یہ ہے کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے تاحال دستیاب معلومات میں گرفتار افسر کے خلاف درج مقدمے کی ایف آئی آر نمبر، قانونی دفعات، عدالت سے حاصل کردہ ریمانڈ کی مدت اور کسی دوسرے افسر یا اہلکار کی گرفتاری کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اینٹی کرپشن کے مطابق معاملے پر قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔ذرائع کے مطابق اب تفتیش میں اصل توجہ مبینہ دو لاکھ روپے کی رقم کے مقصد، گرفتار افسر کی دوسری مرتبہ آئی جی کی رہائش گاہ پر آمد، رقم پیش کرنے کی مبینہ کوشش اور اس کے پس منظر پر مرکوز ہے۔ تفتیشی عمل آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اگر کسی دوسرے افسر یا اہلکار کا کردار سامنے آیا تو اس حوالے سے بھی کارروائی کا امکان موجود ہے، تاہم فی الوقت کسی مزید گرفتاری کی مستند تصدیق نہیں ہوئی۔محکمہ جیل خانہ جات کے سرکاری ریکارڈ میں عمران نوید اشرف کا نام اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے طور پر درج تھا، جبکہ اب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی کے بعد کاشف علی کو نیا سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت میں مقدمے کی کارروائی آگے بڑھنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ مبینہ طور پر پیش کی جانے والی رقم کا اصل مقصد کیا تھا، اس معاملے میں مزید کون سے شواہد سامنے آتے ہیں اور آیا کسی دوسرے افسر یا اہلکار کا کردار بھی ثابت ہوتا ہے۔
آئی جی کو مبینہ رشوت دینے کی کوشش، گرفتار سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کیخلاف تحقیقات جاری



















