لاہور (میاں ذیشان) قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کا لاہور میں غیر قانونی اور مبینہ فراڈ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاﺅن مزید تیز، 7 مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران 275 افراد گرفتار کر کے مقدمات درج کر لئے گئے۔گرفتار افراد میں 254 مقامی اور 21 غیر ملکی شہری شامل، کارروائیوں کے دوران 69 لیپ ٹاپ، 51 کمپیوٹر سسٹمز، 94 موبائل فونز سمیت بھاری مقدار میں ڈیجیٹل آلات اور جعلی دستاویزات برآمد کر لی گئیں۔این سی سی آئی اے کی کارروائیوں میں 415 جعلی سمیں، 610 جعلی سلیکون فنگر پرنٹس، 56 اے ٹی ایم کارڈز اور 13 بائیومیٹرک ڈیوائسز بھی قبضے میں لئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔حکام کے مطابق ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات کے فرانزک تجزیے سے مبینہ فراڈ، شہریوں کے ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال اور مالی لین دین کے شواہد کی تلاش جاری، مزید ملزمان اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق رواں ماہ لاہور میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی کا کریک ڈاﺅن جاری ہے، لاہور میں اب تک کم از کم درجنوں غیر قانونی یا مبینہ فراڈ کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں 7 جگہ پر ریڈز کرتے ہوئے 254 لوکل، 21 غیر ملکی جبکہ مجموعی طور پر 275 افراد کو گرفتار کر ایف آئی آرز کا اندراج کر دیا گیا ہے۔ کارروائیوں کے دوران قبضے میں لئے جانے والے سامان میں کم از کم 69 لیپ ٹاپ، 51 کمپیوٹر سسٹمز اور 94 موبائل فونز کے اعدادوشمار مختلف رپورٹ شدہ کارروائیوں سے سامنے آتے ہیں، اس کے علاوہ 415 جعلی سمیں، 610 جعلی سلیکون فنگر پرنٹس، 56 اے ٹی ایم کارڈز، 13 بائیومیٹرک ڈیوائسز اور 3 گاڑیاں بھی قبضے میں لئے جانے کی اطلاعات ہیں، ذرائع کے مطابق ایک کارروائی میں 5 ملزمان گرفتار ہوئے جنہیں عدالت نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کیا، دوسری کارروائی میں 7 ملزمان گرفتار کرکے 9 موبائل فون اور 4 کمپیوٹر سسٹمز قبضے میں لئے گئے، جبکہ فیصل ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مشترکہ کارروائی کے دوران 36 افراد گرفتار ہوئے اور 13 لیپ ٹاپ، 6 کمپیوٹر اور 6 موبائل فونز قبضے میں لئے گئے، ایک مبینہ جعلی طبی بلنگ کال سینٹر کے خلاف کارروائی میں 39 افراد گرفتار ہوئے جبکہ 24 کمپیوٹر، 7 لیپ ٹاپ، 42 موبائل فونز اور 3 گاڑیاں تحویل میں لی گئیں، ایک اور کارروائی میں 39 ملزمان گرفتار کرکے 40 لیپ ٹاپ اور 41 موبائل فونز قبضے میں لئے گئے، جبکہ جوہر ٹاﺅن میں ایک کارروائی کے دوران 2 ملزمان گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا، این سی سی آئی اے حکام کے مطابق قبضے میں لئے جانے والے کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو سیل کرکے فرانزک تجزیے کے لئے محفوظ کیا جاتا ہے اور ان سے کال ریکارڈ، مالی لین دین، شہریوں کا ڈیٹا، سوشل میڈیا اکاﺅنٹس اور مبینہ فراڈ نیٹ ورک سے متعلق شواہد حاصل کئے جاتے ہیں، ضبط شدہ سامان مقدمات میں مال مقدمہ کے طور پر محفوظ رہتا ہے اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک تفتیش کا حصہ ہوتا ہے، تاہم کل درج مقدمات، جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے گئے ملزمان اور ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان کی مجموعی تعداد کے حوالے سے این سی سی آئی اے کی جانب سے لاہور کے لئے تاحال ایک جامع سرکاری عدد جاری نہیں کیا گیا، اس لئے ان تینوں کیٹیگریز میں حتمی مجموعی تعداد بیان کرنا درست نہیں ہو گا۔ این سی سی آئی اے کی تحقیقات کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز میں مبینہ طور پر آن لائن فراڈ، جعلی قرض ایپس، جعلی ٹریڈنگ، شہریوں کے ذاتی و مالی ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال اور بلیک میلنگ جیسی سرگرمیوں کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات کی فرانزک رپورٹوں کی روشنی میں مزید ملزمان اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔
لاہور میں غیر قانونی ، مبینہ فراڈ کال سینٹرز کیخلاف کریک ڈاﺅن مزید تیز



















